Al-Risala · March 1985 · page 22

قومی ہیرو

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۲۲

قومی ہیرو

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ناظم دینیات کے دفتر میں بی ایس سی کا ایک مسلمان طالب علم داخل ہوا " یہ مسلم یونیورسٹی ہے " اس نے پرجوش انداز میں کہنا شروع کیا۔ یہاں آپ دینی امور کے ذمہ دار ہیں۔ میں آپ کے علم میں یہ بات نا چاہتا ہوں کہ یہاں کی آزاد لا ئبریری میں انگریزی کی ایک کتاب ہے جس میں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر ہے۔ آپ اس کتاب کو فور آ لائبریری سے ہٹوا دیں ورنہ ۔ ۔۔ "

ناظم دینیات نے کہا " تم جانتے ہو کہ آزاد لا لائبریری بہت بڑی لائبریری ہے۔ یہاں دنیا کے مختلف اداروں سے کتابیں آتی رہتی ہیں۔ ایسی حالت میں یہاں ایسی کتابیں بھی آسکتی ہیں جن میں اللہ میاں کا مذاق اڑایا گیا ہو۔ کیا تم ایسی سب کتابوں کو دیکھ کر مشتعل ہوتے رہو گے " " سر ! اللہ میاں تو سب کے ہیں اور رسول اللہ تو ہمارے ہیں " ( احتساب علی گڑھ ۵ مئی ۱۹۸۲) مسلمان طالب علم کو کیوں خدا سب کا نظر آیا اور رسول صرف اپنا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے رسول کو اپنا قومی ہیرو سمجھ لیا ۔ ہر قوم کا اپنا الگ ایک ہیرو ہوتا ہے جس پر وہ دوسری قوموں کے مقابلہ میں فخر کرتی ہے۔ خدا میں اشتراک ممکن ہے مگر قومی ہیرو میں اشتراک ممکن نہیں۔ یہی قومی نفسیات تھی جس کی وجہ سے مسلمان طالب علم خدا کے خلاف بات پر نہیں بھڑکا مگر رسول اللہ کے خلاف بات کو دیکھ کر بھڑک اٹھا۔

مذکورہ طالب علم کا واقعہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی صحیح نمائندگی کر رہا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان کبھی " جشن خداوندی " نہیں بناتے۔ البتہ وہ " جشن محمدی " خوب دھوم کے ساتھ ساری دنیا میں مناتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اپنی قومی نفسیات کی بنا پر انہیں خدا میں کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔ کیونکہ خدا میں وہ اپنے لئے ذاتی فخر کا سامان نہیں پاتے۔ البتہ " محمد " تاریخی طور پر چوں کہ ان کے ہیرو یا ان کا قومی فخر بن چکے ہیں اس لئے ان کے نام پر خوب دھوم مچاتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے پر فخر قومی جذبات کی تسکین حاصل کر سکیں۔

آج ہر طرف الحاد کا غلبہ ہے مگر مسلمانوں کے اندر یہ جوش نہیں ابھرتا کہ وہ الحاد کے فکری غلبہ کو ختم کر کے توحید کا فکری غلبہ قائم کریں۔ البتہ پیغمبر کی تصویر دیکھ کر وہ فوراً بھڑک اٹھتے ہیں۔ یہ یقینی طور پر ہیرو پرستی ہے نہ کہ خدا پرستی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page