Al-Risala · March 1985 · page 29

عظیم کو تاہی

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۲۹

عظیم کو تاہی

۱۹۱۶ میں آل انڈیا کانگرس کا سالانہ اجلاس لکھنو میں ہوا۔ اس اجلاس میں گاندھی جی پہلی بار کانگرس کے اسٹیج پر نمایاں ہوئے۔ گوپی ناتھ امن لکھنوی بھی اس تاریخی اجلاس میں ایک جوشیلے نوجوان کی حیثیت سے موجود تھے۔ ان کی روایت کے مطابق اس وقت کے انگریز گورنر سر جیمس مسٹن نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی تھی۔ وہ اسٹیج پر کھڑے ہوئے تو انھوں نے گوپی ناتھ امن کے الفاظ میں شستہ اردو میں تقریر کی جو اس وقت سامعین کے لئے بڑی دلچسپ اور ثابت ہوئی ( صدق جدید ۱۹ اگست ۱۹۸۳ )

برطانی راج کے زمانہ میں بہت سے انگریزوں نے اردو ( یا ہندوستانی زبان ) سیکھی تھی۔ ان کے لئے اردو زبان سیکھنے کا محرک اگر چہ تمام تر سیاسی تھا۔ مگر اس نے ہمارے علماء کے لئے تبلیغ دین کا زبردست موقع پیدا کر دیا تھا۔ وہ علماء جو دین سے واقف تھے مگر انگریزی نہیں جانتے تھے، وہ کم از کم اردو داں انگریزوں سے مل کر ان کو خدا کے سچے دین سے واقف کر سکتے تھے۔ اس طرح کچھ انگریزوں تک براہ راست طور پر اور بقیہ انگریزوں تک بالواسطہ طور خدا کا پیغام پہنچ جاتا اور وہ اپنی دعوتی ذمہ داری سے خدا کے یہاں سبک دوش ہوجاتے۔

مگر ایک پورا دور ختم ہوگیا۔ اور اس قیمتی امکان کو استعمال نہ کیا جا سکا۔ اس کی وجہ مواقع کی کمی نہیں بلکہ جذبہ کی کمی تھی۔ انگریز ہندوستان میں آئے تو ہمارے علماء ان کو قومی دشمن کی نظر سے دیکھنے لگے۔ انگریز ان کے لئے نفرت اور حقارت کا موضوع بن گئے۔ انگریزوں کے بارہ میں ہمارے علماء کے اندر قومی نفسیات تو پیدا ہوئی مگر ان کے اندر انگریزوں کے بارہ میں دعوتی نفسیات پیدا نہ ہوسکی۔

دعوت کا کام دوسرے لفظوں میں مدعو کو جنت کا راستہ دکھانے کا کام ہے۔ اس قسم کا کام وہی شخص کر سکتا ہے جس کے اندر اپنے مخاطب کے لئے محبت اور خیر خواہی کا بے پناہ جذبہ پایا جاتا ہو۔ علماء جب انگریزوں سے نفرت کر رہے تھے تو وہ ان کو دعوت حق کا مخاطب نہیں بنا سکتے تھے ۔ ہمارے علماء کی یہی عظیم الشان کوتاہی ہے جس کی سزا انھیں یہ ملی کہ وہ لوگ جنھوں نے آزادی کی جدوجہد میں آگے بڑھ کر قربانیاں دی تھیں۔ جب ملک آزاد ہوا تو وہ یہاں سب سے پیچھے کی صف میں دھکیل دئے گئے۔ غلام ہندوستان کے ”امام“ آزاد ہندوستان کے ”مقتدیٰ“ بن کر رہ گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page