خود فریبی
الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۲۸
خود فریبی
بہت سے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ کسی کو "شہید" کا لقب دے کر اس کی دھوم مچا رہے ہیں۔ اگر آپ ان صاحب کو شہید کے بجائے مقتول کہہ دیں تو وہ آپ نے اس طرح بگڑ جائیں گے جیسے کہ نعوذ باللہ آپ نے خدا کی شان میں کوئی گستاخی کر دی ہے۔ حالانکہ خود ان لوگوں کا حال یہ ہو گا کہ وہ اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے ایسی زندگی کو پسند کئے ہوئے ہوں گے جس کا شہادت اور قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔
بہت سے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ کسی کو بزرگ "بت" کر اس کی بزرگی کی جھوٹی کہانیاں خوب بیان کریں گے۔ اگر آپ ان بزرگ کے ساتھ مصنوعی القاب نہ لکھیں یا ان کا نام ایک عام آدمی کی طرح لے لیں تو وہ آپ پر اس طرح برس پڑیں گے جیسے کہ آپ نے کسی حرام فعل کا ارتکاب کر دیا ہے۔ مگر یہ سب کچھ صرف الفاظ کی دنیا میں ہو گا۔ عملاً ان لوگوں کا اپنا حال یہ ہو گا کہ ان کی زندگی ان اوصاف سے ضروری حد تک بھی خالی ہو گی جن کو وہ اپنے مفروضہ بزرگوں میں مبالغہ آمیز حد تک ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بظاہر غیر پرستی ہے۔ مگر حقیقتاً یہ خود پرستی کی بدترین قسم ہے۔ کسی کی بڑائی کے نام پر اپنے آپ کو بڑا بنانے کی کوشش ہے۔ یہ دوسرے کی شہادت اور قربانی کا قصیدہ پڑھ کر اپنے آپ کو شہیدوں کی صف میں کھڑا کر نا ہے۔ یہ دوسروں کی بزرگی کا پرچار کر کے اپنے آپ کو بزرگوں کے زمرہ میں داخل کرنا ہے۔ یہ کچھ مسلمہ شخصیتوں کو نمایاں کر کے ان کی فہرست کمال میں اپنا اندراج کرنا ہے۔ یہ اس نفسیات کو تسکین دینا ہے کہ ــــــــ ہم خود بڑے نہیں، مگر ہم کو بڑوں سے نسبت تو حاصل ہے۔ حالانکہ اس قسم کی نسبت کی خدا کے یہاں کوئی حقیقت نہیں۔
جو لوگ ایسا کرتے ہیں انھیں شاید یہ معلوم نہیں کہ یہ دنیا حقائق کی دنیا ہے نہ کہ مفروضات کی دنیا۔ اس دنیا میں ہر آدمی حقیقت کے پیمانہ سے ناپا جا رہا ہے۔ ہر آدمی وہ ہے جو حقیقت واقعہ کی نسبت سے وہ قرار پاتے نہ کہ وہ جو وہ خود ساختہ مفروضات کے خانہ میں ظاہر ہو۔ بڑوں کی مدح خوانی سے کوئی بڑا نہیں ہو جاتا۔ بڑا وہ ہے جو حقیقت واقعہ کی نظر میں بڑا ہو۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے: لیس للانسان الاما سعی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues