Al-Risala · March 1985 · page 31

اسلام کی نفی

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۳۱

اسلام کی نفی

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آدم اور ان کی نسل کو زمین میں بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی متوقع نسلوں کو، مخاطب کرتے ہوئے فرمایاکہ تم لوگ جا کر زمین میں بسو۔ تمہار ابعض تمہارے بعض کا دشمن ہوگا۔ پس جب تمہارے پاس میری ہدایت آئے تو جو شخص میری ہدایت پر چلے گا وہ نہ گمراہ ہوگا اور نہ بعد سختی میں مبتلا ہوگا (طہ ۱۲۳)

اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں انسانوں کا بگاڑ یہ ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہو کر لڑنے لگیں۔ انسانوں کا دو گروہ بن کر باہم لڑنا انسانی بگاڑ کی خاص علامت ہے۔ حضرت آدم کے زمین میں آباد ہونے کے بعد آپ کے فرزند ہا بیل اور قا بيل سے اس باہمی جنگ کا آغاز ہوا۔ اس وقت سے لے کر آج تک تاریخ کے بیشتر حصوں میں یہی صورت حال جاری رہی ہے۔

تاہم قدیم زمانہ اور جدید زمانہ میں ایک فرق ہے۔ قدیم زمانہ کی لڑائیاں ضد اور ظلم کے جذبہ کے تحت ہوتی تھیں۔ موجودہ زمانہ میں یہ باہی ٹکراؤ فلسفیانہ جواز کے تحت ہو رہا ہے۔ یہ فلسفیانہ جواز موجودہ زمانہ میں دو قسم کے لوگوں نے فراہم کیا ہے ۔ اولاً اشتراکی مفکرین نے، اور اس کے بعد اسلامی مفکرین نے ۔ اشتراکی مفکرین نے یہ کام حکومتِ مزدور “ کے نعرہ کے تحت کیا اور اسلامی مفکرین نے ”حکومتِ الہیہ کے نعرہ کے تحت۔

اشتراکی فلسفہ نے موجودہ زمانہ میں کچھ لوگوں کو موقع دیا ہے کہ وہ لوگوں کی آزادیاں چھین لیں۔ ان کو ان کی جائدادوں سے محروم کریں۔ ان کو بے دریغ قتل کریں۔ ان کو ناقابل بیان مصائب میں مبتلا کر دیں۔ اس کے باوجود ان تمام مظالم کے جواز کے لئے ان کے پاس ایک خوبصورت فلسفہ موجود ہو۔ ٹھیک اسی طرح جدید اسلامی مفکرین کے نظریات نے انہیں یہ موقع دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دو طبقوں ( حکمراں طبقہ اور انقلاب پسند طبقہ ) میں تقسیم کر کے انہیں ایک دوسرے سے لڑائیں اور اس کو اسلامی جہاد کہیں ۔ حالانکہ مسلمانوں کی باہمی جنگ حرام ہے۔ وہ اقتدار پا کر انسان سے ہر قسم کی آزادی چھین لیں اور اپنے مخالفین کو کچلنے کے تمام وحشیانہ طریقے استعمال کریں اور اس کے باوجود ان کا اسلامی فلسفہ ان کو جائز ثابت کرنے کے لئے موجود ہو۔

اشتراکی مفکرین نے عدل کے نام پر عدل کی نفی کی تھی، اسلامی مفکر ،ین اسلام کے نام پر اسلام کی نفی کر رہے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page