Al-Risala · March 1985 · page 33

شیطانی فریب

الرسالہ، مارچ ۱۹۸۵، صفحہ ۳۳

شیطانی فریب

۲۵ دسمبر ۱۹۸۴ کو میری ملاقات ایک مصری نوجوان سے ہوئی۔ وہ لندن کا ایک عربی رسالہ کے نامہ نگار ہیں۔ یہ عربی رسالہ ایرانی انقلاب کی حمایت میں نکالا گیا ہے۔ مصری نوجوان سے میری جو گفتگو ہوئی اس کا ایک حصہ یہ تھا :

”میں امام خمینی کا عاشق ہوں“ ”کیوں؟“ ” وہ جدید تاریخ کے پہلے مسلم قائد ہیں جنہوں نے اسلام دشمن طاقتوں کو ذلت آمیز شکست دی “ یہ گفتگو بتاتی ہے کہ بہت سے مسلمان جو امام خمینی کے پرجوش حمایتی ہیں اس کے اصل راز کیا ہے۔ اس کا راز تمام تر منفی ہے نہ کہ مثبت۔ جو لوگ قومی اور سیاسی اسباب کے تحت مغربی قوموں کی نفرت اپنے دلوں میں لئے ہوئے تھے انھوں نے خمینی انقلاب کے واقعہ میں تسکین پالی کہ اس نے ــــــــــ ہم کو ذلیل کرنے والوں کو ذلیل کر دیا۔ امام خمینی کی یہ حمایت مفروضہ اسلام دشمنوں کو شکست دینے کی بنا پر ہے نہ کہ خود اسلام کو قائم کرنے کی بنا پر۔ اس خوشی کا راز قومی مراد کو پالینا ہے نہ کہ اسلامی مراد کو پالینا۔ لیکن زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو یہ منفی بنیاد بھی محض خیالی ہے۔ غور کیجئے کہ وہ کون ہے جس کو امام خمینی نے ” ذلت آمیز “ شکست دی ہے۔ وہ دراصل خود ایران کا مسلم بادشاہ ہے نہ کہ وہ اسلام دشمن طاقتیں جن کو روس اور امریکہ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ امام خمینی کی ” فتح “ کا تعلق امریکہ اور روس سے نہیں۔ بلکہ خود ایران کے مسلم بادشاہ سے ہے۔ پرجوش مجاہدین نے اولاً شاہ ایران کو ” دشمنوں کا ایجنٹ “ کا لقب دیا۔ اس کے بعد اس کو فتح کرکے اعلان کر دیا کہ ہم نے اسلام دشمن طاقتوں کے اوپر فتح پائی ہے۔

اسی کو قرآن میں تزئین اعمال کہا گیا ہے۔ یعنی برے اعمال کو اچھا کر کے دکھانا۔ مسلمان آج اسی شیطانی فریب میں مبتلا ہیں۔ وہ ایک مسلمان کو قتل کرتے ہیں اور فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک مرتد کو قتل کیا ہے۔ وہ اپنے بھائی کو ذلیل کرتے ہیں اور یہ کہہ کر خوش ہوتے ہیں کہ ہم اسلام دشمن عناصر کو ذلیل کر رہے ہیں۔ وہ اپنے حکمران کو تخت سے اتارتے ہیں اور پھر اس طرح یوم فتح مناتے ہیں جیسے انہوں نے کافروں اور مشرکوں کے اوپر غلبہ حاصل کر لیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1985 All issues

Printed page