Al-Risala · April 1985 · page 2

شرک اور کبر

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۲

شرک اور کبر

ان اللہ لا یغفر ان يُشرک بہ ویغفر ما بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ دون ذالک لمن یشاء ومن يُشرک باللہ شریک ٹھہرایا جائے۔ اور اس کے سوا جس کے فقد افتری اثماً عظیما (النساء ۴۸ ) لئے چاہے گا۔ بخش دے گا۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے اس نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا۔

عن عبد اللہ بن مسعود عن النبی صلی اللہ علیہ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ وسلم قال : لا یدخل الجنۃ من کان فی قلبہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جنت میں وہ شخص نہیں جائے گا مثقال ذرۃ من کبر ۔ قیل وما الکبر جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر بھی کبر ہو۔ پوچھا قال : الکبر بطر الحق وغمط الناس (مسلم) گیا کہ کبر کیا ہے۔ آپ نے فرمایا ؛ حق کو نظر انداز کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔ (مسلم)

اس دنیا میں سب سے زیادہ خلاف واقعہ بات یہ ہے کہ خدا کے سوا کسی اور کو بڑائی کا درجہ دیا جائے۔ یہی خدا کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ آدمی اگر اپنے آپ کو بڑا سمجھ لے تو یہ کبر ہے۔ اور اگر وہ کسی دوسرے کو بڑا قرار دے تو اسی کا نام شرک ہے۔

خدا کی معرفت خدا کے سوا دوسری تمام عظمتوں کو ڈھا دیتی ہے بشمول اپنی عظمت کے۔ خدا کے سوا دوسروں کی عظمت کا نام شرک ہے اور اپنی عظمت کا نام کبر۔

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لئے یہاں ہر قسم کے لوگوں کو پلنے کے مواقع ملے ہوئے ہیں۔ مگر آخرت کی دنیا آئیڈیل دنیا ہوگی۔ وہاں صرف وہی لوگ عزت کا مقام پائیں گے جنھوں نے موجودہ آزمائشی دنیا میں یہ ثبوت دیا ہو کہ وہ حقیقت واقعہ کی سطح پر جینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کبر اور شرک کی سطح پر جینا غیر حقیقی سطح پر جینا ہے۔ اس لئے جو لوگ کبر اور شرک کی سطح پر زندگی گزاریں گے وہ آخرت کی ابدی دنیا میں بسنے کے لئے سراسر نااہل ٹھہریں گے۔

جنت ان اعلیٰ انسانوں کے لئے ہے جو خدا کی بڑائی میں جیتے ہوں۔ جہنم ان پست لوگوں کا مقام ہے جو غیر خدا کی بڑائی میں جئیں، خواہ یہ جینا خود اپنی بڑائی میں ہو یا اپنے سوا کسی دوسرے کی بڑائی میں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page