کھونے والا پاتا ہے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۳
کھونے والا پاتا ہے
اگر آپ بمبئی میں ہیں اور کلکتہ جانا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو بمبئی کو چھوڑنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی آپ کلکتہ میں موجود ہو سکتے ہیں۔ جو آدمی خدا کا طالب ہو وہ بھی گویا ایک قسم کا مسافر ہے۔ اگر وہ اپنی منزل پر پہنچنا چاہتا ہے تو اس کی ایک ہی لازمی شرط ہے۔ یہ کہ وہ اپنی سابقہ جگہ کو چھوڑنے پر راضی ہو جائے۔ اس کے بعد ہی وہ اپنی مطلوب خدائی منزل پر پہنچنے کی خوشی حاصل کر سکتا ہے۔
دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں لینے کے لئے دینا پڑتا ہے۔ یہاں کھونے میں پانے کا راز چھپا ہوا ہے۔
آپ اگر ایک نفع بخش تجارت کے مالک بننا چاہتے ہیں تو پہلے اپنا اثاثہ اس میں کھپانا پڑے گا۔ اگر آپ اپنے کھیت میں ہری بھری فصل دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے بیج کے ذخیرے کو مٹی میں ملا دینا ہوگا۔ اگر آپ منصوبہ بندی کے تحت دور رس عمل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے فوری جذبات کو کچل دینے پر اپنے آپ کو راضی کرنا پڑے گا۔ اگر آپ دولت مند بننا چاہتے ہیں تو ضروری ہوگا کہ آپ اپنے کو فضول خرچی سے باز رکھیں۔
جو ذرہ نہ پھٹے وہ کبھی ایٹمی طاقت نہیں بنتا۔ جو دانہ اپنے آپ کو فنا نہ کرے وہ درخت کی صورت اختیار نہیں کرتا۔ جو فرد اپنے ذاتی مفاد کو قربان نہ کرے وہ اجتماعی مفاد کو قائم کرنے کا کریڈٹ نہیں پاتا۔
یہی معاملہ خدا کا بھی ہے۔ کوئی شخص خدا والا اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ خدا کی خاطر اپنے کو حذف کر دے۔ جو شخص اپنے وجود کو حذف کرنے کے لئے تیار نہ ہو وہ کبھی خدا والا بھی نہیں بنتا۔
خدا کو پانے کے لئے اپنے آپ کو کھونا پڑتا ہے۔ یہی ایک لفظ میں خدا کو پانے کا راز ہے ۔ جو شخص اپنے آپ کو بھی پانا چاہے اور خدا کو بھی ، وہ صرف اپنے آپ کو پائے گا۔ ایسا آدمی کبھی خدا کو پانے والا نہیں بن سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues