سب چلے گئے
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۱۰
سب چلے گئے
فبین سوشلزم (Fabian Socialism) ایک سو سال پہلے انگلینڈ میں وجود میں آئی۔ برنار ڈشا اور دوسرے بہت سے دانشور اس سے وابستہ تھے۔ فبین کا لفظ ایک رومی جنرل (Fabius Maximus) کے نام سے لیا گیا تھا۔ یہ لوگ غریبى اور جہالت کے خاتمہ پر زور دیتے تھے اور جبر کے بغیر سوشلزم لانے کے علمبردار تھے۔ یہ گروہ فبین سوسائٹی (Fabian Society) کے نام سے مشہور ہوا۔
اس نظریہ کو ماننے والوں میں ایک خاتون بیٹرس ویب (Beatrice Webb) بھی تھیں۔ وہ اپنی ڈائری لکھتی رہتی تھیں جو ان کے بعد شائع ہو کر کافی مقبول ہوئی۔ اس ڈائری کے آخری اندراجات میں سے ایک وہ ہے جو انہوں نے ۱۹۴۳ کی کسی تاریخ کو لکھا تھا۔ اس میں مذکورہ خاتون نے تحریر کیا تھا :
Everything and everyone is disappearing — Churchill, Roosevelt, Stalin. What an amazing happening, and well worth recording in my diary. But that also will suddenly disappear (1943). ہر چیز اور ہر شخص غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ چرچل، روزولٹ، اسٹالن، سب چلے گئے۔ کیسے عجیب ہیں یہ واقعات، اور کس قدر زیادہ میری ڈائری میں لکھے جانے کے قابل، مگر وہ بھی اچانک ایک روز غائب ہو جائے گی۔ (ہندوستان ٹائمس ۲۵ دسمبر ۱۹۸۴)
کیسے کیسے انسان اس دنیا میں آتے ہیں۔ وہ کیسے کیسے کمالات دکھاتے ہیں۔ اور پھر اچانک ایک روز اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، جیسے کہ ان کا یہاں آنا اور یہاں سے جانا ان کی اپنی مرضی سے نہ ہو۔ بلکہ کوئی اور ہو جو ان کو یہاں لاتا ہو اور پھر اپنے ایک طرفہ فیصلہ کے تحت انھیں یہاں سے اٹھا لے جاتا ہو۔
اس واقعہ کی کوئی بھی بامعنی توجیہہ اس کے سوا نہیں ہے کہ پیغمبروں کی اطلاع کے مطابق آخرت کو مانا جائے۔ آخرت کو شامل کرنے کے بعد موجودہ دنیا کی ہر چیز با معنی ہو جاتی ہے اور آخرت کو شامل کئے بغیر موجودہ دنیا کی ہر چیز بے معنی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues