Al-Risala · April 1985 · page 11

امتحان

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۱۱

امتحان

انسان کی آنکھ کیسی عجیب چیز ہے۔ اگر آپ اپنی آنکھ بند کر لیں تو آپ کو کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ ساری دن آپ کے لئے ایک نامعلوم اندھیرا بن کر رہ جائے گی۔ دنیا ہوگی مگر آپ اس کو نہیں دیکھیں گے۔ چیزیں ہوں گی مگر آپ ان کو محسوس نہیں کریں گے۔

مگر جب آپ اپنی آنکھ کھولتے ہیں تو حیرت انگیز طور پر آپ تمام چیزوں کو دیکھنے لگتے ہیں۔ اب کالی چیز آپ کو سفید چیز سے الگ دکھائی دینے لگتی ہے۔ اب متحرک چیز آپ کو متحرک دکھائی دیتی ہے اور جامد چیز جامد حالت میں نظر آتی ہے۔ آپ انسان کو انسان کے روپ میں دیکھتے ہیں اور جانور کو جانور کے روپ میں۔

یہی انسان کا خصوصی امتیاز ہے۔ وہ چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے پہچانتا ہے۔ وہ خیر اور شر کا فرق کرنا جانتا ہے۔ وہ روشنی کو تاریکی سے اور تاریکی کو روشنی سے جدا کر کے دیکھتا ہے۔ وہ یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ حق کو حق کے روپ میں دیکھے اور باطل کو باطل کے روپ میں پہچان لے۔ وہ اس فرق سے آشنا ہے کہ کون سی چیز دلیل سے ثابت ہوئی اور کون سی چیز دلیل سے ثابت نہیں ہوئی۔

انسان کی یہی خصوصیت اس کے لئے اس کے امتحان کا پرچہ ہے۔ یہی وہ خاص مقام ہے جہاں اس کا خدا اس کا امتحان لے رہا ہے۔ انسان کو اس دنیا میں یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے خیر کو شر سے الگ کر کے دیکھا۔ اس نے ظلم اور انصاف کے فرق کو پہچانا۔ اس کے سامنے جب کوئی بات آئی تو اس نے اپنے اس کو دلیل کی سطح پر جانچا۔ اگر وہ بے دلیل تھی تو اس نے اسے رد کر دیا یا اور اگر وہ دلیل سے ثابت ہو رہی تھی تو اس نے کھلے طور پر اس کا اعتراف کر لیا۔

یہ امتحان بظاہر بہت آسان ہے مگر اس کی ایک قیمت دینی پڑتی ہے۔ یہ قیمت اپنی نفی ہے۔ حق کسی آدمی کو اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر ملتا ہے۔ آدمی یہ قیمت نہیں دے پاتا ، اس لئے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ امتحان میں ناکام ہو جاتا ہے۔

آدمی کے سامنے حق ظاہر ہوتا ہے مگر وہ اس کو دیکھ نہیں پاتا۔ اس کے پاس حق کی آواز گونجتی ہے مگر وہ اس کو سن نہیں پاتا۔ حق خود چل کر اس کے پاس آتا ہے مگر اس سے اس کی ملاقات نہیں ہوتی۔ آہ ، وہ انسان جو عین اس مقام پر سب سے زیادہ ناکام ہو جاتا ہے جہاں اس کو سب سے زیادہ کامیاب ہونا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page