Al-Risala · April 1985 · page 14

جاننے کے بعد

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۱۴

جاننے کے بعد

پروفیسر مجیب (۱۹۸۵ - ۱۹۰۳) ہندوستان کے چوٹی کے دانشوروں میں سے تھے۔ ان کی تعلیم خالص مغربی طرز کے اداروں میں ہوئی۔ انھیں شکسپیر کے ڈراموں کے بڑے بڑے حصے زبانی یاد تھے۔ ہندوستان میں تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ بیرونی ملکوں میں مزید تعلیم کے لئے گئے۔ وہ ایک خوش فکر آدمی تھے۔ وہ اپنے کسی ساتھی کورنجیدہ دیکھتے تو کہے کہ بھئی مسکرائیے اور دور تک دیکھیے۔ وہ اُردو انگریزی، فرانسیسی، جرمن اور روسی زبانیں یکساں طور پر جانتے تھے۔

دسمبر ۱۹۷۲ میں پروفیسر مجیب بیمار ہوئے ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق ان کے دماغ کا آپریشن ہوا۔ آپریشن کامیاب ہوا مگر اس کے بعد ان کا حافظہ جاتا رہا۔ پروفیسر مجیب پانچ زبانوں کے ماہر تھے مگر آپریشن کے بعد وہ تمام زبانیں بھول گئے۔ حتیٰ کہ اردو سمیت تمام زبانوں کے حروف تہجی تک انھیں یاد نہ رہے ( جامعہ دسمبر ۱۹۸۴ )

دس سال سے زیادہ عرصہ تک وہ اسی حال میں اپنے اوکھلا ( دہلی ) کے مکان میں پڑے رہے۔ یہاں تک کہ ۲۰ جنوری ۱۹۸۵ کو ان کا انتقال ہو گیا جب کہ ان کی عمر ۸۲ سال ہو چکی تھی۔ وہ ۱۹۴۸ سے ۱۹۷۳ تک جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر رہے۔

قرآن میں انسان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اللہ نے تم کو پیدا کیا۔ پھر وہ تم کو موت دیتا ہے ۔ اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو ناکارہ عمر تک پہنچ جاتے ہیں کہ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانیں ۔ بے شک اللہ علیم و قدیر ہے ( النحل ۷۰)

جوانی کے بعد بڑھاپا آنے کا واقعہ آدمی کے لئے ایک یاد دہانی ہے۔ وہ اس لئے ہوتا ہے کہ آدمی اپنی اصل حقیقت کو جانے۔ وہ جانے کہ اس کا علم ذاتی نہیں ہے۔ بلکہ وہ دوسروں کا دیا ہوا ہے۔ وہ جب چاہے دے اور جب چاہے چھین لے۔ آدمی کی قوت اگر اس کی ذاتی ہو تو وہ کبھی اس سے نہ چھینے مگر قوت کا ملنا اور پھر اس کا چھن جانا اس بات کی علامت ہے کہ انسان دے سے پاتا ہے۔ دینے والا اگر نہ دئے تو وہ خود سے نہیں پا سکتا۔

یہ واقعہ ہر روز پیش آتا ہے۔ مگر نہ "بوڑھے " اس سے نصیحت لیتے جن پر یہ واقعہ گزرتا ہے اور نہ " جوان " اس سے سبق حاصل کرتے جو اس کو اپنے سامنے ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page