Al-Risala · April 1985 · page 15

آخرت کے بغیر

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۱۵

آخرت کے بغیر

ارنسٹ ہیمنگ وے (Ernest Hemingway) ایک امریکی فوجی تھا۔ وہ 1961ء میں انتقال کرگیا۔ وہ 1918ء میں اٹلی کی جنگ میں شریک تھا۔ اس نے اپنی فوجی زندگی کے درمیان جو خطوط لکھے تھے وہ کتابی صورت میں شائع کر دئے گئے ہیں۔

اٹلی کی جنگ میں جب وہ زخمی ہو گیا تو اس نے اسپتال سے اپنے گھر والوں کے نام کچھ خطوط لکھے۔ ان میں سے ایک خط میں حسب ذیل الفاظ درج تھے:

There are no heroes in this war. All the heroes are dead. And the real heroes are the parents. They suffer a thousand times more. And how much better to die in all the happy period of undisillusioned youth, to go out in a blaze of light, than to have your body worn out and illusions shattered. اس جنگ میں کوئی ہیرو نہیں۔ تمام ہیرو مر چکے ہیں۔ اور اصل ہیرو ان کے والدین ہیں (فوجی جوان ایک ہزار گنا زیادہ مصیبت اٹھاتے ہیں۔ اور یہ کتنا اچھا ہے کہ جوانی کے پر کیف زمانہ میں آدمی کی موت آجائے۔ روشن شعلہ میں داخل ہونا اس سے بہتر ہے کہ تمہارا جسم بوڑھا اور فرسودہ ہو جائے اور سارے فریب منتشر ہو چکے ہوں (لائف جون 1981)

ان الفاظ کے پیچھے زندگی کا کتنا مایوس تصور چھپا ہوا ہے۔ ایک شخص دیکھتا ہے کہ جو آدمی اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے اس کا آخری انجام یہ ہے کہ سو سال یا اس سے کم مدت میں وہ بوڑھا اور ناکارہ ہو کر مر جاتے ۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر زندگی بالآخر اسی کا نام ہے تو اس سے بہتر ہے کہ جوانی کے امید بھرے دور میں آدمی ہیروانہ اقدام کر کے اپنا خاتمہ کرلے۔

زندگی کو آخرت کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو بوڑھا ہو کر مرنا بھی با معنی ہو جاتا ہے اور روشن شعلہ میں داخل ہونا بھی۔ مگر جب ایک شخص زندگی کو آخرت سے الگ کر کے دیکھتا ہے تو اس کو اپنے چاروں طرف مایوسی کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر آخرت کے تصور کو شامل نہ کیا جائے تو موجودہ زندگی اپنی تمام معنویت کھو دیتی ہے۔ اس کے بعد وہ اتنی ناقابل فہم ہو جاتی ہے کہ اس دنیا میں زندہ رہنا بھی آدمی کو بے معنی نظر آنے لگے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page