Al-Risala · April 1985 · page 17

پنجہ سل سے کھلیں گے عقدہ گیسوئے دوست

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۱۷

اعتراف

اردو زبان کے ایک استاد کلاس میں غزل پڑھارہے تھے ۔ اس درمیان میں ایک مصرعہ آیا جو کتاب میں اس طرح چھپا ہوا تھا :

پنجہ سل سے کھلیں گے عقدہ گیسوئے دوست

استاد نے اس مصرعہ کی تشریح ان الفاظ میں کی ـــــ پنجہ سل کا مطلب ہے سل کا پنجہ ۔ کھلیں گے ، یعنی وا ہو جائیں گے ۔ عقدہ یعنی گرہ ۔ گیسوئے دوست ، یعنی محبوب کے گیسو ۔ مصرعہ کا مطلب یہ ہے کہ محبوب کے گیسو پنجہ سل سے کھل جائیں گے ۔

طلبہ حیرانی میں تھے ۔ کیوں کہ استاد کی مذکورہ تشریح کے باوجود مصرعہ کا مطلب واضح نہیں ہو ا تھا۔ انھوں نے نظم کے الفاظ کو نثر میں دہرا دیا تھا۔ اتنے میں کلاس کا ایک ذہین طالب علم اٹھا ۔ اس نے کہا :

" سر ، میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں "

" کہو "

" سر ، یہ شاید طباعت کی غلطی ہے ۔ میرے خیال سے یہ پنجہ سل نہیں بلکہ پنجہ شل ہے۔ اورشل کے معنی ہیں بے جان ۔ کنگھا انسانی پنجہ کے مشابہ ہوتا ہے ۔ بے جان ہونے کی وجہ سے شاعر نے اس کو پنجہ شل کہا ۔ شاعر افسوس کر رہا ہے کہ ہماری جاندار انگلیاں تو محبوب کی زلف کو سنوار نہ سکیں ۔ اور کنگھا جس کی انگلیاں بے جان ہیں اور وہ گویا پنجہ شل ہے ، اس کی خوش بختی دیکھو کہ اس نے زلف محبوب کے بل کھول کر اس کو سنوار دیا "

طالب علم کی اس وضاحت کے بعد کلاس کے تمام طلبہ خوش ہوگئے ۔ ان کو محسوس ہوا کہ استاد کی تشریح کے باوجود جو مصرعہ بدستور نا قابل فہم بنا ہوا تھا اس کو طالب علم کی تشریح نے قابل فہم بنا دیا ہے مگر استاد محترم اپنی ہار ماننے والے نہیں تھے ۔ انھوں نے فورا کہا : درست ، درست ـــ پنجہ سل اور پنجہ شل ایک ہی بات ہے ۔

حقیقت کھل جانے کے بعد آدمی اگر اس کا اعتراف نہ کرے تو گویا وہ چاہتا ہے کہ اپنے آپ کو بڑا !! اور حقیقت کو چھوٹا ثابت کرے ۔ مگر چوں کہ امر واقعہ اس کے خلاف ہے ۔ اس لئے عملاً صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی خود چھوٹا ہو کر رہ جاتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page