مومن کا ذہن
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۱۸
مومن کا ذہن
ایک روز کا واقعہ ہے۔ میں انگریزی اخبار پڑھ رہا تھا۔ اچانک مجھ پر ایک عجیب تجربہ گزرا۔ مجھ کو محسوس ہوا کہ کا غذ پر چھپے ہوئے انگریزی زبان کے الفاظ کو میں اردو زبان میں سمجھ رہا ہوں میری آنکھ اگر چہ ان کو انگریزی زبان میں پڑھ رہی ہے مگر میرا ذہن ان کو اردو زبان میں لے رہا ہے۔
یہی ہر شخص کا معاملہ ہے ، خواہ وہ اردو کا آدمی ہو یا کسی دوسری زبان کا ۔ آدمی کسی بات کو ہمیشہ اپنی مادری زبان میں سمجھتا ہے۔ کان یا آنکھ کے راستہ سے بظاہر آدمی کے انڈر ٹیبل کا لفظ داخل ہوتا ہے۔ مگر اردو کا ایک آدمی ٹیبل کو صرف اس وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ اس کا ذہن اس کو میز میں تبدیل کرلے۔ اسی طرح انگریزی کا ایک آدمی جب میز کا لفظ سنتا ہے تو وہ اس کو صرف اس وقت سمجھتا ہے جب کہ اس کا ذہن اس کو ٹھیل کی صورت میں ڈھال لے ۔ انسانی ذہن کے اندر ایک اجنبی زبان کا لفظ داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک حیرت ناک واقعہ ہوتا ہے ۔ ذہن اس کو ایک انتہائی پیچیدہ نظام سے گزار کر پر اسرار طور پر اس کو اپنی مادری زبان میں تبدیل کر لیتا ہے۔
یہ واقعہ تمثیل کے انداز میں بتاتا ہے کہ مومن کا معاملہ اس دنیا میں کیا ہے۔ مومن اس دنیا میں اس طرح رہتا ہے کہ ہر چیز جو اس کے اندر داخل ہوتی ہے وہ فی الفور خدائی حقیقت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ باہر جو چیز ایک مادی واقعہ ہے وہ مومن کے ذہنی سانچہ میں آگرہ روحانی واقعہ بن جاتی ہے۔ ایک معاملہ جو باہر کتناہر انسانی معاملہ تھا وہ مومن کے ذہن میں داخل ہوتے ہی خدائی معاملہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک دنیوی چیز مومن کے ذہن میں پہنچ کر اخروی چیز کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ مومن کا ذہن ایک انتہائی پیچیدہ کار خانہ ہے جو ہر واقعہ کو ربانی واقعہ میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اس خدائی کارخانہ میں ہر وقت ایک عظیم عمل جاری رہتا ہے۔ اس کے اندر خام مال“ داخل ہوتا ہے اور وہ تیار مال بن کر باہر آتا ہے۔ ایک بظاہر بے معنی چیز اس سے گزر کر ایک انتہائی با معنی چیز کی صورت میں ڈھل جاتی ہے۔ وہی شخص مومن ہے جس کا وجود اس قسم کا ایک ربانی کارخانہ بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues