Al-Risala · April 1985 · page 21

ابتدائی حالات

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۲۱

دور تک پھیلے ہوئے جنگلوں کے درمیان چند بے ترتیب عمارتیں نظر آئیں گی ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں نظام الدین اولیاء کا مزار ہے اور اسی نسبت سے یہ جگہ بستی نظام الدین کے نام سے مشہور ہے ۔ یہیں اس وقت ایک بزرگ رہا کرتے تھے جن کا نام مولانا محمد اسماعیل (م ۵۹۸ھ) تھا۔ ان کا معمول تھا کہ جو مزدور اس ویرانہ میں آ نکلتے ان کا بوجھ اتار کر رکھتے اور اپنے ہاتھ سے ڈول کھینچ کر ان کو پانی پلاتے، پھر دو رکعت نماز شکرانہ ادا کرتے کہ اللہ نے اپنے میںدوں کی اس خدمت کی توفیق عطا فرمائی ۔

مولانا محمد الیاس صاحب کاندھلوی انہی بزرگ کے صاحبزادے تھے ۔ جن کی ولادت ۱۳۰۳ھ اور وفات ۱۳۶۳ھ (۱۹۲۴ء) میں ہوئی ۔

مولانا محمد الیاس صاحب خاندان ولی اللہی سے تعلق رکھتے تھے ۔ یہ وہی خاندان ہے جس کے متعلق اگر یہ کہا جائے تو صحیح ہوگا کہ ہندوستان میں آل تیمور کی غلط سیاست نے دین اسلام کو جو نقصان پہنچایا تھا اس کے تدارک اور اصلاح کا کام اللہ تعالیٰ نے اسی خاندان کے ذریعے لیا ۔ مولانا الیاس صاحب نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں زندگی میں ہماہمی پیدا کرنے کے لیے لوگوں کو فرضی واقعات کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں تھی ، کئی کئی پشت سے ان کے خاندان اور رشتہ داروں میں علماء اور مجاہدین کی شاندار روایات چلی آرہی تھیں ان کے گھر کے باہر اور اندر کی مجلسیں سید صاحب اور شاہ عبدالعزیز صاحب کے خاندان کے قصوں سے گرم تھیں ۔ ان بزرگوں کے واقعات مردوں اور عورتوں کی زبانوں پر تھے ۔ اور گھر کی بیبیاں بچوں کو طوطا مینا اور پریوں کی کہانیاں سنانے کے بجائے ان کے روح پرور واقعات سناتی تھیں ۔ گھر میں ہر طرف نماز، روزہ، تلاوت اور ذکر کا منظر دکھائی دیتا تھا ۔ گھر کی کوئی بڑی بی خوش ہوتیں تو یہ نہ کہتیں کہ " میرا بچہ آئی ۔ سی ۔ ایس بن جائے گا ۔ " بلکہ ان کی زبان سے نکلتا ۔ " بیٹے مجھے تجھ سے صحابہ کی خوشبو آتی ہے ۔ " یہ تھے وہ ابتدائی خاندانی حالات جن میں مولانا محمد الیاس رحمتہ اللہ علیہ کی پرورش ہوئی ۔

آپ کے گھر پر ایک تجارتی کتاب خانہ تھا جس کا انتظام آپ کے بڑے بھائی مولانا یحییٰ صاحب کرتے تھے ۔ مولانا الیاس صاحب یوں بھی بچپن سے کمزور ہونے کی وجہ سے جسمانی مشقت کا کام نہ کر سکتے تھے ۔ اور وہ اس میں کچھ حصہ نہیں لیتے تھے ۔ ان کا وقت زیادہ تر مطالعہ اور دینی مشاغل میں گزرتا تھا اس کے برعکس بڑے بھائی کافی محنت سے کتاب خانہ کے امور انجام دیتے تھے ۔ ایک روز کتاب خانہ کے منتظم نے کہا " مولوی الیاس کتاب خانہ کے کاموں میں کچھ ہاتھ نہیں بٹاتے۔ کوئی خدمت ان کے ذمہ بھی کر دینی چاہیے " بڑے بھائی نے تکدر کے ساتھ جواب دیا۔ " حدیث میں آیا ہے کہ ہل ترزقون الا بضعفائكم(تم (تم کو جو رزق ملتا ہے وہ تمہارے کمزور افراد ہی کی برکت تو ہوتی ہے) میرا اعتقاد ہے کہ مجھے اسی بچہ کی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page