Al-Risala · April 1985 · page 30

مولانا الیاس رحمتہ اللہ علیہ

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۳۰

مولانا الیاس رحمتہ اللہ علیہ

۱۹۴۴ء کی سردیوں کا ایک دن تھا۔ میں نارتھ ایسٹرن ریلوے کے ایک اسٹیشن پر اترا۔ کچھ دور آگے چلا تھا کہ سامنے نظر آیا کہ ایک پیدل قافلہ سڑک کو پار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ قدیم وضع کا لباس، حلیہ سے دینداری اور سادگی نمایاں، بستر اور ضروری سامان کا بنڈل اپنے اوپر لادے ہوئے چلا جا رہا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے یہ کسی دوسری دنیا کی مخلوق ہے جو اچانک زمین پر اتر آئی ہے۔ شاید مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ کون لوگ تھے۔ کیونکہ یہ اب عام طور پر لوگوں کے لیے ایک مانوس منظر بن چکا ہے۔ ملک میں کم ہی لوگ ایسے ہوں گے جنہیں کبھی نہ کبھی اس منظر سے سابقہ نہ پڑا ہو۔ اب اس طرح کی شکلیں دیکھ کر ہر شخص خود سمجھ جاتا ہے کہ یہ کن لوگوں کا قافلہ ہے اور کس مقصد کے لیے ادھر سے اُدھر سفر کر رہا ہے ۔

اس طرح کے بے شمار قافلے آج ساری دنیا میں اپنے قدموں کو دین کی راہ میں گرد آلود کر رہے ہیں۔ شاید سہ گنٹے میں کوئی وقت ایسا نہیں ہوگا جب کہ دین کی یہ نقل و حرکت کہیں نہ کہیں جاری نہ ہو۔ یہ عظیم حرکت جو تبلیغ کے نام سے چل رہی ہے اور جس نے آج لاکھوں انسانوں میں ایک نیا جوش اور نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، اس کا آغاز کرنے والا ایک ایسا شخص تھا جو اپنے لاغر جسم ، پستہ قد، اور غیر نمایاں شخصیت کے ساتھ لکنّت کا بھی شکار تھا۔ اور مشکل سے اپنی کی بات کو صاف طور پر ادا کر سکتا تھا۔ یہی وہ حیرت انگیز وجود ہے جس کو لوگ مولانا محمد الیاس رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے جانتے ہیں۔ اور اس نے جو دینی نقل و حرکت پیدا کی ، اس کو عوام کی زبان میں "تبلیغی جماعت" کہا جاتا ہے۔ مولانا اگر چہ جسمانی اعتبار سے کمزور اور دبلے آدمی تھے۔ مگر اس کمزور جسم کے اندر ایک انتہائی طاقت ور چیز چھپی ہوئی تھی، اور وہ ہے لوگوں کو دین کی راہ پر ڈالنے کا بے پناہ جذبہ ۔ یہی چیز تھی جس نے ایک کمزور شخص سے وہ کام کرا دیا جو طاقتوروں سے نہیں ہو سکتا۔

ابتدائی حالات

انیسویں صدی کے آخر میں اگر کوئی شخص دہلی کی کسی اونچی عمارت پر چڑھے تو اس کو شہر کے باہر جنوبی سمت میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page