’’ میو اپنے عادات میں آدھے ہندو ہیں
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۲۳
قدر نا آشنا تھے کہ کبھی کوئی مسلمان اتفاق سے ان کے علاقے میں پہنچ گیا اور اس نے نماز پڑھی تو گاؤں کے عورت ، مرد، بچے سب اس کے گرد یہ دیکھنے کے لیے جمع ہو جاتے کہ یہ شخص آخر کیا کر رہا ہے ۔ اس کے پیٹ میں درد ہے یا اس کو جنون ہو گیا ہے کہ بار بار اٹھتا بیٹھتا اور جھکتا ہے ۔ ان کی تہذیب کا یہ عالم تھا کہ عورت مرد اکثر نیم برہنہ گھومتے تھے ۔ چوری ڈکیتی اور رہزنی ان کا پیشہ تھا ۔ آپس کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان کے درمیان لمبی لمبی خون ریز لڑائیاں ہوتی رہتی تھی ۔ وہ فطرتاً جفا کش اور بہادر تھے ۔ مگر علم اور تربیت کی کمی نے انہیں جنگلی قبائل کی سطح سے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ میجر پاؤلٹ، جو انیسویں صدی کے آخر میں ریاست الور کا افسر بند وبست تھا، کے الفاظ میں :
’’ میو اپنے عادات میں آدھے ہندو ہیں
دہلی کی مسلمان سلطنت کے ابتدائی دور میں میواتی بہت تکلیف دہ عنصر بن گئے تھے ۔ انہوں نے دہلی کے اوپر تاخت و تاراج شروع کر دی تھی ۔ ان کے خوف سے راجہ دھانی ۔ کہ دروازے سر شام بند ہو جاتے شام کو شہر پناہ سے باہر نکلنے کی کوئی ہمت نہیں کر سکتا تھا۔ غیاث الدین بلبن نے ان کے خلاف ایک زبردست مہم بھیجی جس میں میواتیوں کی بڑی تعداد قتل ہوئی ۔ بعد کے حالات بھی بتاتے ہیں کہ انگریزی حکومت کے افسران اور الور اور بھرت پور کی ہمسایہ ریاستیں وہاں امن و امان قائم کرنے میں ناکام رہی تھیں ۔ ۱۹۲۱ء کے زمانے میں مزید ایک مسئلہ پیدا ہو گیا ۔ آریہ مبلغین سیکڑوں کی تعداد میں اٹھ کھڑے ہوئے جن کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کے وہ باشندے جنہوں نے پہلے اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا انہیں دوبارہ اپنے مذہب کی طرف واپس لایا جائے ۔ ہر طرف ارتداد کی ہوا پھیلنے لگی اور جاہل نو مسلم دیہاتی علاقوں میں آریوں کی کامیابی کی خبریں آنے لگیں ۔
بستی نظام الدین عین میوات کے دہانے پر واقع تھی۔ اور یہاں کے مدرسہ میں ان کے کچھ بچے پڑھتے تھے ۔ اسی کے ساتھ مولانا الیاس صاحب کے والد بزرگوار اور آپ کے بھائی صاحب مرحوم کے تعلق سے کچھ میواتی عقیدت مند بھی ہو گئے تھے ۔ وہ آتے جاتے رہتے تھے ۔ مولانا الیاس صاحب نے میواتیوں کی افسوس ناک حالت دیکھی تو ان کے اندر اصلاح کا جذبہ پیدا ہوا ۔ آپ کے دونوں پیشرو (والد صاحب اور بھائی صاحب ) دینی تعلیم کے ذریعہ پہلے سے بھی ان کی اصلاح کی کوشش کر رہے تھے ۔ فطری طور پر آپ کا پہلا ذہن اسی طرف گیا کہ اس سلسلے کو جاری رکھنا ان کی اصلاح کا حقیقی
‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues