Al-Risala · April 1985 · page 24

’’ میو اپنے عادات میں آدھے ہندو ہیں

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۲۴

ذریعہ ہے۔ آپ نے اس میں اتنا اور اضافہ کیا کہ خود میوات کے اپنے علاقہ میں بھی دینی مکاتب و مدارس قائم کرنے کی تحریک چلائی۔

یہ دوسرا جز میواتیوں کے لیے سخت مشکل تھا۔ کیونکہ وہ سوچ ہی نہیں سکتے تھے کہ بچہ کو کھیتی باڑی اور جانوروں کی دیکھ بھال سے ہٹا کر مدرسہ میں بٹھا دیں۔ تاہم آپ نے کوشش جاری رکھی۔ تبلیغ سے لے کر خوشامد تک ہر طریقہ اختیار کیا۔ میواتیوں سے کہا کہ " تم بچے دے دو، معلمین کی تنخواہ میں لاؤں گا" بالآخر میوات میں سیکڑوں ایسے مکتب قائم ہو گئے جن میں قرآن اور ابتدائی دینی تعلیم ہوتی تھی۔ اس کے بعد ایک واقعہ ہوا جس نے آپ کی کوششوں کے رُخ کو بالکل موڑ دیا۔ ایک بار آپ میوات کے سفر میں تھے۔ ایک مقام پر مولانا کے سامنے بڑی تعریف کے ساتھ ایک نوجوان پیش کیا گیا کہ یہ میوات کے فلاں مکتب سے فارغ ہو کر نکلے ہیں۔ دیکھا تو ڈاڑھی منڈی ہوئی ہے اور چہرہ اور وضع قطع میں کہیں اسلامیت کا کوئی نشان نہیں، یہ واقعہ مکاتب کی عملی ناکامی کی تصویر تھا۔ مکاتب کے نتائج کے بارے میں جو بے اطمینانی آپ کو رہا کرتی تھی ۔ وہ اب پوری شدت کے ساتھ ابھر آئی۔ مکاتب کے قیام سے بلاشبہ یہ فائدہ تھا کہ آہستہ آہستہ لوگوں کے اندر مولانا کی عقیدت بڑھ رہی تھی ، اور ایک دوسرا کام جو مولانا وہاں کرنا چاہتے تھے وہ بھی کسی قدر ہو رہا تھا ۔ یعنی میواتیوں کے آپس کے لڑائی جھگڑوں کو چکانا اور باہم صلح کرانا۔ اس میں ان کی کامیابی کا یہ عالم تھا کہ میوات کے لوگ کہتے لگتے تھے۔ " یہ شخص دیکھنے میں تو ایک مشت استخواں ہے۔ مگر جس معاملے میں پڑ جاتا ہے، چٹکیوں میں اس کو سلجھا دیتا ہے۔ اور معلوم نہیں کیا بات ہے کہ بڑے بڑے ضدّی اس کے کہنے سے فوراً مان جاتے ہیں۔ "

مگر اصل مسئلہ میواتیوں کی دینی بیداری کا تھا۔ اور اس معاملے میں مکاتب کی ناکامی اپنی جگہ بدستور باقی تھی۔ غور و فکر کے بعد آپ پر کھلا کہ اصل رکاوٹ یہ ہے کہ موجودہ طریق کار کے تحت ہم یہ کرتے ہیں کہ میواتیوں کو ان کے مشاغل اور ماحول میں رکھ کر انہیں دین کا سبق پڑھانا چاہتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم تو انہیں محنت اور عرق ریزی سے دین کی باتیں بتاتے ہیں۔ مگر اس کے چند ہی لمحے بعد جب وہ اپنے گھر اور اپنے ماحول میں پہنچتے ہیں تو وہاں دوسری قسم کی باتیں انہیں گھیر لیتی ہیں اور پھر خود بخود سفیدی پر سیاہی پھر جاتی ہے ۔ اس کا واحد حل جو مولانا کو نظر آیا وہ یہ کہ میواتیوں کی جماعت بنا کر انہیں ان کے ماحول سے نکالا جائے ۔ اور پھر مسجدوں میں، دینی مدارس میں ، بزرگوں کی صحبتوں میں ، اور وعظ و تلقین کے ماحول میں رکھ کر انہیں تعلیم دی جائے اور انہیں ایک عرصہ تک ذکر اور نماز اور دعا میں مشغول رکھ کر متاثر کرنے کی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page