” اچھا تم تو اپنا کام کر چکے، اب میری سنو “
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۲۶
اترنے لگیں۔ بے کہے لوگوں نے داڑھیاں رکھنی شروع کر دیں۔ تقریبات سے مشرکانہ رسوم کا خاتمہ ہو گیا۔ سود خواری کم ہو گئی۔ شراب نوشی کا وجود مٹ گیا۔ قتل و غارت گری اور لوٹ کھسوٹ کی واردات میں کمی آگئی۔ گاؤں کے گاؤں ایسے ہوگئے جہاں ایک بچہ بھی بے نمازی نہیں ہوتا۔ ان کی معاشرت، ان کے برتاؤ، ان کے لین دین، غرض ہر چیز میں فرق آگیا۔ یہی نہیں بلکہ وہ قوم جو پہلے دینی شعور سے بالکل بیگانہ تھی، اس کے اندر یہ جذبہ پیدا ہو گیا کہ وہ دوسروں کو خدا کے دین سے آگاہ کرے ۔ ان کی سیدھی سادی زبانوں سے دین کی باتیں سن کر ایسا محسوس ہونے لگا کہ تاریخ اپنے اوراق الٹ رہی ہے۔ اور آغاز اسلام میں عرب کے نو مسلم بدو دوبارہ پیدا ہو کر زمین کے اوپر چلنے پھرنے لگے ہیں۔ اسی زمانے کا واقعہ ہے کہ ایک بزرگ ستمبر ۱۹۲۹ء میں میوات کے حالات کا مشاہدہ کرنے کے لیے گئے ہوئے تھے انہوں نے ایک جاہل میواتی کو روک کر پوچھا ”یہ تبلیغی دورے تم کس لیے کر رہے ہو؟ “ اس نے جواب دیا: ”ہم جہالت میں پڑے ہوئے تھے۔ نہ ہم کو خدا کی خبر رکھتی نہ رسول کی۔ اس مولوی کا خدا بھلا کرے کہ اس نے ہمیں سیدھا راستہ دکھایا۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ اپنے دوسرے بھائیوں تک بھی یہ نعمت پہنچائیں جو ہمیں ملی ہے۔ “ میواتی کے یہ سیدھے سادے الفاظ سن کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے تاریخ اپنے آپ کو دُہرا رہی ہے۔ مولانا کی شخصیت کسی کام کی کامیابی کے لیے طریق کار کی صحت کے ساتھ کارکنوں کا اخلاص اور تعلق بھی ضروری ہے۔ یہ مولانا الیاس صاحب کی بے تاب طبیعت نے فراہم کر دیا۔ مولانا کو جن لوگوں نے دیکھا ہے ان کی متفقہ شہادت ہے کہ وہ اس قدر بے چین اور مضطرب آدمی تھے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ گوشت پوست کا مجسمہ نہیں بلکہ درد اور تڑپ کا مجسمہ ہیں۔ مولانا کے ایک قدیم رفیق ایک بار نظام الدین گئے۔ اس وقت مولانا الیاس صاحب کا انتقال ہو چکا تھا۔ انہوں نے گھر میں مولانا الیاس صاحب کی زوجہ محترمہ کے یہاں کہلایا کہ مولانا کی کوئی خاص بات جو آپ کو یاد ہو بتائیے ۔ محترمہ نے اندر سے کہلایا : ”جب میری شادی ہوئی اور میں رخصت ہو کر مولانا کے گھر گئی تو میں نے دیکھا کہ مولانا راتوں کو بہت کم سوتے ہیں۔ ان کی راتیں بستر پر کروٹ بدلنے اور آہ بھرنے میں گزرتی تھیں۔ میں نے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ آپ کو راتوں کو نیند نہیں آتی ۔ مولانا نے ایک آہ بھری اور فرمایا کیا بتاؤں اگر تم کو وہ بات معلوم ہو جائے تو جاگنے والا ایک نہ رہے، دو ہو جائیں “
‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues