Al-Risala · April 1985 · page 25

” اچھا تم تو اپنا کام کر چکے، اب میری سنو “

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۲۵

کوشش کی جائے ۔ اب انہوں نے اس دوسرے طریقے کے مطابق کام شروع کر دیا۔

اس کام میں ابتدا ئر پہلے سے بھی زیادہ مشکلیں پیش آئیں۔ جس میواتی کا یہ حال تھا کہ اس کو اپنا بچہ مقامی مدرسہ میں دینا گوارا نہیں ہوتا تھا، وہ خود اپنا وطن چھوڑ کر اور اپنا وقت نکال کر باہر جانے کے لیے کس طرح راضی ہوتا، مگر مولانا کا اخلاص، مسلسل کوشش ، دعائیں اور گریہ و زاری نے بالآخر اس کو ایسا رواج دیا کہ سارے میوات میں ایک نئی حرکت پیدا ہوگئی۔

اس سرکش قوم کو مولانا نے کس طرح رام کیا۔ اس کا اندازہ دو واقعات سے ہوگا۔ ایک مرتبہ دوران تبلیغ آپ نے ازراہ محبت ایک شخص کے اوپر ہاتھ رکھ دیا۔ وہ آگ بگولہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ اگر اب کی تم نے ہاتھ لگایا تو میں لٹھ مار دوں گا۔ آپ نے فوراً اس کے پاؤں پکڑ لیے اور فرمایا کہ ۔ " پاؤں کو تو نہیں کہا تھا “ اس کے بعد اس کا غصہ کا فور ہو گیا اور فوراً نرم پڑ گیا۔ اسی طرح آپ ایک بار ایک میواتی پر تبلیغ کر رہے تھے کہ وہ بگڑ گیا اور آپ کو ایک گھونسہ مار دیا۔ مولانا الیاس صاحب دُبلے کمزور آدمی تھے، گھونسہ کی تاب نہ لاکر زمین پر گر پڑے۔ کچھ دیر بعد جب ان کے حواس بجا ہوئے تو وہ گرد جھاڑ کر اٹھے اور میواتی کا دامن پکڑ لیا اور کہا :

” اچھا تم تو اپنا کام کر چکے، اب میری سنو “

یہ دیکھ کر میواتی آپ کے قدموں پر گر پڑا اور بولا ۔ " مولوی مجھے معاف کرو ورنہ میری بخشش نہیں ہوگی ۔“ اسی اخلاص اور اخلاق کا نتیجہ تھا کہ بالآخر لوگوں کے دل کھنچے۔ میواتیوں کی کثیر تعداد آپ کے ساتھ ہو گئی۔ ان کے قافلے جوق در جوق اپنے علاقوں سے نکل کر نظام الدین ، سہارن پور، اور دوسرے مقامات کو جانے لگے اور ہفتوں اور مہینوں تک ان کی زندگیاں دینی تعلیم و تربیت کے سائے میں گزرنے لگیں۔ نتیجہ نے بتایا کہ مولانا کا سوچنا صحیح تھا۔ اس کورس سے نکل کر جو لوگ میوات لوٹتے وہ بڑی حد تک بدل چکے ہوتے ۔ ماحول سے متاثر ہونے کے بجائے ماحول کو بدلنے کا جذبہ ان کے اندر بیدار ہو چکا ہوتا تھا۔

اب میوات کی فضا بدلنے لگی۔ پورے علاقے میں دین کی رغبت پیدا ہو گئی۔ جہاں میلوں تک کوئی مسجد نظر نہیں آتی تھی وہاں گاؤں گاؤں مسجدیں بن گئیں۔ مکاتب و مدارس نہ صرف تعداد میں بڑھے بلکہ اب انہیں واقعی میؤوں کے درمیان دینی تعلیم و تربیت کے ادارے کا مقام حاصل ہو گیا۔ ہندوانہ وضع ولباس کی جگہ اسلامی وضع ولباس ہر طرف نظر آنے لگا۔ ہاتھوں کے کڑے اور کانوں کی مُرکیاں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page