Al-Risala · April 1985 · page 28

” اچھا تم تو اپنا کام کر چکے، اب میری سنو “

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۲۸

لوگ ان کے گرد جمع ہوائے ہیں وہ زیادہ تر جاہل یا معمولی پڑھے لکھے لوگ ہیں تو سخت غمگین ہوتے، آخری بیماری میں ایک مرتبہ گہرے تاثر کے ساتھ فرمایا :

"کاش علماء اس کام کو سنبھال لیتے اور پھر ہم چلے جاتے "۔

لوگوں کے ساتھ رعایت کا یہ عالم تھا کہ ریل کے سفر میں ایک بار مغرب کے نوافل پڑھتے وقت ایک رفیق نے مسافروں کو سامنے سے گزرنے سے روکنے کا انتظام کیا۔ آپ نے منع فرمایا اور کہا کہ یہ حقوق عامہ ہیں، تم دوسرے کو گزرنے سے نہ روکو بلکہ سترہ کا انتظام کرو۔ کاندھلہ کے سفر میں ایک مرتبہ بھیڑ کی وجہ سے آپ سیکنڈ کلاس میں بیٹھ گئے۔ ٹکٹ تھرڈ کلاس کا تھا۔ خیال ہو کہ ٹکٹ چیک کرنے والا آئے گا تو ٹکٹ بنوا لیا جائے گا۔ وہ آیا تو اس نے ایسی بے ڈھنگی گفتگو کی کہ مولانا کو غصہ آگیا۔ اور اس کو ڈانٹ دیا۔ ٹکٹ بنانے کے بعد وہ چلا گیا۔ تو مولانا انعام الحسن صاحب نے جو اس وقت ساتھ تھے کہا کہ حضرت ، اس کو تو کہنے کا حق تھا۔ ان صاحب الحق مقالاً (جس کا حق آتا ہو وہ کہنے سننے کا مجاز ہے)، مولانا نے فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا اور اگلے اسٹیشن پر اتر کر اس ٹی ٹی ای سے معذرت کی اور معافی مانگی۔ اسی کے ساتھ خدا سے تعلق اور آخرت کے استحضار کا یہ عالم تھا کہ نمازیں انہیں لذت ملتی۔ پہاڑی پر چڑھتے اور اوپر پہنچ کر جب تمام ساتھی تھک کر بیٹھ جاتے، مولانا فوراً نماز کی نیت باندھ کر کھڑے ہو جاتے۔ انتقال کے بعد جب غسل دیا گیا اور خوشبو لگائی جانے لگی تو ایک رفیق خاص کی زبان سے بے اختیار نکلا_ "پیشانی پر اچھی طرح خوشبو لگاؤ، یہ گھنٹوں سجدہ میں ٹکی رہتی تھیں " آپ کی یہی عبادتیں، قربانیاں، اور خلق اللہ سے آپ کی محبت تھی جس نے آپ کی محنت اور آپ کے کام میں وہ تاثیر پیدا کر دی کہ آج جو لوگ تبلیغ کے کام کے پھیلاؤ اور اس کے حیرت انگیز نتائج کو دیکھتے ہیں، ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ مادی اصطلاحوں میں ان واقعات کی کس طرح تشریح کریں۔ ایک مکتوب میں مولانا نے لکھا :

"عادات خداوندی عموماً دین میں اپنی جدوجہد کی مقدار کے ساتھ وابستہ ہیں۔ آدمی کسی مقصد کے لیے جتنا اپنے آپ کو ذلیل کرتا ہے اور تکالیف کو جھیلنے کے ذریعہ اپنے حالات، جوارح، قلب اور قوتوں کی شکستگی اور تعب وانکسار کو پہونچتا ہے، اتنا ہی حق تعالیٰ کی رحمت کے نزول کا سبب ہوتا ہے ۔ انا عند المنكسرة قلوبهم کسی راہ کی ذلت کو اٹھائے بغیر اس کی عزت کو پہونچنا عاده ہوتا نہیں "

یہ الفاظ در حقیقت خود کہنے والے کی تصویر ہیں۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ آپ نے خود کو دین کی راہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page