” اچھا تم تو اپنا کام کر چکے، اب میری سنو “
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۲۹
گھلا دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی زندگی اور آپ کے کلام میں عجیب کشش پیدا ہو گئی۔ مولانا نے جو بات اوپر کے اقتباس میں کہی ہے اس کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ آدمی جب کسی کام میں اپنے کو فنا کئے ہوئے ہو، اس وقت اس کی شخصیت بے پناہ ہو جاتی ہے۔ اس کی زبان سے تیر و نشتر کی باتیں نکلنے لگتی ہیں جو دلوں میں گھستی ہیں اور روحوں کو بے چین کر دیتی ہے۔ دلوں کو چھیدنے والے کلمات اسی زبان سے نکل سکتے ہیں جس کا دل مقصد کے غم میں چھلنی ہو گیا ہو۔
مولانا کے چند کلمات سے اس کی مزید وضاحت ہو سکے گی۔ ایک مرتبہ آپ نے ایک صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا:
’’ سمجھے مولوی جی، یہ کام قرن اول کا ہیرا ہے۔ اس کے لیے اپنی جانیں قربان کر دو اور اپنا سب کچھ مٹا دو۔ اس کے لیے جتنا زیادہ قربان کرو گے اتنا زیادہ پاؤ گے۔ ‘‘ کچھ لوگ مولانا سے ملنے گئے اور مہمان کی طرح رہ کر واپس چلے گئے ۔ ان کو کہلایا ’’ تم لوگ آئے اور چند روز مسند نشینی کر کے چل دیے۔ یاد رکھو اس راہ میں بھوک اور پیاس کی تکلیفات برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس راہ میں اپنا پسینہ بہاؤ اور خون بہانے کے لیے تیار رہو۔ ‘‘ ایک خط میں اس پر افسوس کرتے ہوئے کہ فی گھر ایک آدمی بھی لوگ تبلیغ کے لیے نہیں دے رہے ہیں لکھتے ہیں:
’’ عیسیٰ ! تم غور تو کرو ۔ دنیا فانی میں کام کے لیے تو گھر کے سارے افراد ہوں اور اس کے لیے صرف ایک آدمی کو کہا جائے اور اس پر بھی نباہ نہ ہو، تو آخرت کو دنیا سے گھٹایا یا نہیں گھٹایا۔ ‘‘ ایک مرتبہ لکھنؤ میں تبلیغی جلسہ ہوا۔ جلسہ کے بعد تحریک ہوئی کہ کچھ لوگ جماعت بنا کر کانپور کے لیے جائیں۔ مگر اعلان کے باوجود کوئی نام نہیں دے رہا تھا۔ مولانا بے قرار ہو کر کھڑے ہو گئے اور لوگوں کو آمادہ کرنا شروع کر دیا۔ حاجی ولی محمد صاحب کئی روز سے صاحب فراش تھے۔ بواسیر کی شکایت نے نقاہت پیدا کر دی تھی۔ آپ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا، تم کیوں نہیں جاتے ۔ انہوں نے جواب دیا۔ ’’ میں تو مر رہا ہوں‘‘ فرمایا ’’ مرنا ہی ہے تو کان پور جا کر مرو‘‘ یہ چند جملے محض سمجھنے کے لیے نقل کر دیے گئے ہیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے الفاظ کبھی بھی اپنی اصل حیثیت کے ترجمان نہیں ہوتے۔ کیونکہ جب اس طرح کا جملہ کہا جاتا ہے تو وہ کاغذ پر لکھ کر کسی کو نہیں دیا جاتا، بلکہ کہنے والا سامنے موجود ہوتا ہے اور سننے والا براہ راست اس کے کلمات کو سن رہا ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues