Al-Risala · April 1985 · page 33

نور - ۵۵

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۳۳

، سمندروں اور جنگکوں میں شکار کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ہانے ایک دوستی کا ہاتھ بڑھایا پھر اچھے دے۔ جب سمندروں اور جنگلوں پر ان کا حکم چلنے لگے۔ جب قومیں ان کی باج گزار ہوں اور زمین میں ہر طرف ان کا جھنڈا لہرانے لگے۔ یہ سب ممکن ہے اور اس امکان کا سرا صرف اس واقعہ میں ہے کہ ہم "اللہ کو اپنائیں۔ " نصرت قرآن میں یہاں "نصرت" بارے میں قرآن کا نظریہ بیان کرنا مناسب ہوگا۔ اللہ تعالی کی نصرت جو بندوں کو حاصل ہوتی ہے۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک وہ جس کو قرآن میں "حیات طیبہ" کہا گیا ہے اور دوسری وہ جس کے لیے استخلاف اور تمکین فی الارض کے الفاظ آئے ہیں۔ دونوں آیتیں حسب ذیل ہیں: من عمل صالحامن ذكر او انثى وهو مومن فلنحيينه حياة طيبة ولنجزينهم اجرهم باحسن ماكانوا يعملون (نحل - ۹۷)

دوسری آیت یہ ہے :

وعد الله الذين آمنوا منكم وعملوا الصالحات ليستخلفنهم في الارض كما استخلف الذين من قبلهم وليمكنن لهم دينهم الذي ارتضى لهم وليبد لنهم من بعد خوفهم امنا يعبدونني لا يشركون بي شيئاً ۔

نور - ۵۵

"حیات طیبہ" سے مراد ہے کہ شخصی طور پر ایک ۔۔۔

جو نیک عمل کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اس کو حیات طیبہ کی زندگی دیں گے، اور ان کے عمل کا ان کو بہترین بدلہ دیں گے ۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے عملِ صالح کیا، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں اقتدار بخشے گا جس طرح پچھلوں کو اقتدار دیا تھا۔ اور ان کے لیے ان کے دین کو جما دے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے ۔

آدمی کو اچھی اور مستفی زندگی حاصل ہو۔ ایک "حیاۃ طیبہ" سے مراد یہ ہے کہ شخصی طور پر ایک آدمی لو اچھی اور ستھری زندگی حاصل ہو۔ ایک مفسر کے الفاظ میں اس اچھی اور ستھری زندگی کے اجزاء مثال کے طور پر یہ ہیں ــــــــ " دنیا میں حلال روزی، قناعت، غنائے قلبی ، سکون و طمانیت ، ذکر اللہ کی لذت ، حب الہی کا مزہ ، ادائے فرض عبودیت کی خوشی ، کامیاب مستقبل کا تصور ، تعلق مع اللہ کی حلاوت ، وغیرہ ۔ " یہ چیزیں جس کو ملتی ہیں اس کی زندگی تنگی اور فراخی ہر حال میں بہترین کیفیات سے مالا مال رہتی ہے ۔ دوسری چیز استخلاف اور تمکین ہے ۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ نصرت ہے جو اجتماع اور معاشرہ زریں پیدا ہوتا ہے ۔ اور اس میں طرح طرح کے اوپر نازل ہوتی ہے ۔ ایک مفسر کے الفاظ میں : ” اس خیال کی بنیاد اس حقیقت پر کہ لوگ ایک ابو بکر صدیق رضہ عنہ کی یہ صورت ہے کہ ہر ایک کی زبان پر شکریہ جاری ہو لعین جلال الدین دعائم دھر کے کہ شکریہ سے خالی نہیں یہ خطاب فرمایا حضرت نے لوگوں کو۔ یعنی جو ان میں اعلیٰ درجے کے نیک اور رسول کے کے کامل متبع ہیں، رسول کے بعد ان کو زمین کی حکومت دے گا اور جو دین اسلام

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page