Al-Risala · April 1985 · page 32

تبلیغ کی اندرونی طاقت

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۳۲

انہیں یقین ہے کہ یہ عصا انہیں کسی بھی مقام پر دھوکا نہیں دے سکتا۔

ہر شخص اور ہر قوم کو کسی ایسے سرے کی ضرورت ہے جس کے اوپر وہ اپنے اقدام اور استحکام کے لیے بھروسہ کر سکے اور جس کے اوپر اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ تمام لوگ ایسا سہارا فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس کے جس سرچشمے سے عام طور پر لوگ واقف ہیں وہ صرف مادی سازوسامان ہے۔ لوگ صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے بڑے بڑے کارخانے کھڑے کرو۔ بنکوں اور انشورنس کمپنیوں کے ذریعہ سارے ملک کی دولت اکٹھا کر لو۔ بموں اور ہوائی جہازوں سے اپنی فوجی چھاؤنیوں کو بھر دو۔ جبری فوجی ٹریننگ کے ذریعہ سارے ملک کو عظیم فوج میں تبدیل کر دو۔ خلائی سائنس کے محیر العقول کارنامے دکھا کر دنیا کے اوپر اپنا سکہ جما دو، ریڈیو، ٹیلی ویژن ہا پریس، اور ان تمام چیزوں کے مالک بن جاؤ جن کو آج طاقت و قوت سمجھا جاتا ہے ۔

گویا جن لوگوں کے پاس اس قسم کے سازوسامان فراہم کرنے کے حالات نہ ہوں، ان کے لیے اس دنیا میں کچھ نہیں ہے۔ مگر تبلیغی نظریہ آدمی کو طاقت کے ایسے خزانے سے آشنا کرتا ہے جس کے لیے ان میں سے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ بلکہ صرف ایک ایسی چیز کی ضرورت ہے جو ہر آدمی کے پاس موجود رہتی ہے، خواہ وہ کسی حال میں ہو۔ اور وہ ہے آدمی کا دل ۔ اگر آدمی اپنے دل کو خدا کے آگے ڈال دے تو ساری کائنات اس کے قدموں کے نیچے آجائے گی ۔

یہ طاقت کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس کو اقتصادی امداد روک کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ناکہ بندی کر کے اسے مسدود کیا جا سکتا ہے۔ حتی کہ ٹینکوں کا مارچ اور ہوائی جہازوں کی بمباری بھی اسے فنا نہیں کر سکتی ۔ اور نہ اس قسم کی کوئی خبر اس کے لیے اندیشہ ناک ثابت ہو سکتی ہے کہ حریف نے زیادہ طاقتور قسم کا ہتھیار ایجاد کر لیا ہے ۔

جو نظریہ آدمی کو اتنی بڑی طاقت دیتا ہو، جو نہتوں کو سب سے زیادہ طاقت ور فوج میں تبدیل کر دینے والا ہو، اس کی کشور کشائی اور جہانگیری کا کیا ٹھکانا۔ اور تبلیغی کارکنوں کے وہ حیرت انگیز واقعات جو مغرب سے لے کر مشرق تک پیش آرہے ہیں، ثابت کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس سرچشمے میں سے ایک حصہ عطا فرمایا ہے۔ مگر خدا کی یہ نعمت اپنی پوری شکل میں اس وقت ظاہر ہوگی جب پوری قوم اس راہ پر آجائے۔ مولانا الیاس صاحب کو اس میں ذرا بھی شبہ نہیں تھا کہ اگر پوری قوم اس راہ پر آجائے تو خدا کی نصرت ان کے اوپر اس آخری اور انتہائی شکل میں ظاہر ہو سکتی ہے جب ایک بے حیثیت قوم اٹھ کر پوری دنیا کو زیر و زبر کر دے۔ جب کسی تار کے بغیر ان کے امیر کی آواز مدینہ سے نہاوند کی پہاڑیوں تک سنائی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page