Al-Risala · April 1985 · page 35

دل سے خطاب

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۳۵

سامنے ہے اتنے میں ایک شخص داخل ہوتا ہے ۔ علیک سلیک اور رسمی مزاج پرسی کے بعد گفتگو شروع ہوتی ہے۔ " آپ ایک کتاب لکھیے ، " ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ۔

" کیسی کتاب ، " نووارد نے پوچھا ۔

تحقیقات کرنے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ ہندوستان کے قصبات اور دیہات میں ہزار ہا غیر مسلم حلقہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں ۔ اگر کوئی شخص ان از خود مسلمان ہونے والوں سے ملے اور ان سے قبول اسلام کے اسباب دریافت کر کے ایک کتاب میں جمع کر دے تو اس سے تبلیغ اسلام کے مقصد کو بے حد تقویت حاصل ہوگی ۔

" کیا صداقت اسلام کے متعلق پہلے دلائل ناکافی ہیں ؟ "

" بہت کافی ہیں ۔ مگر ایسا کرنے سے کئی ایسے عجیب اور جدید دلائل آپ کو ملیں گے کہ دنیا حیرت زدہ رہ جائے گی ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ دل اور دماغ کے کام کرنے کے طریقوں میں بہت فرق ہے ۔ دماغ اکثر اوقات ہزارہا مضبوط دلائل کو مسترد کر دیتا ہے اور ان کی کچھ بھی پروا نہیں کرتا ۔ لیکن دل اس کے برعکس بعض اوقات کمزور سے کمزور چیزوں سے اس قدر متاثر ہو جاتا ہے کہ صرف ایک ہی جھٹکے میں زندگی کا سارا نقشہ بدل جاتا ہے ۔ قبول اسلام کا تعلق جس قدر دل سے ہے ، دماغ سے نہیں ۔ اصل بات جو مبلغ کو معلوم ہونا چاہیے ، یہ ہے کہ وہ کون کون سے نشتر ہیں جن سے دل متاثر ہوا کرتے ہیں ۔ کفار اور مشرکین کے انقلاب حیات کی ہزارہا مثالیں تاریخ اسلام میں موجود ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص اپنے حالات کے تحت ایک خیال یا ایک مذہب پر چٹان کی طرح قائم ہوتا ہے ۔ ناگہاں غیب سے اس کے دل پر ایک نشتر چلتا ہے اور چشم زدن میں اس کی زندگی کی تمام گزشته تاریخ بدل جاتی ہے ۔ صداقت اسلام کے قلبی دلائل تو آپ کے پاس بہت ہیں ۔ مگر عقلی دلائل کم ہیں ۔ اگر آپ نو مسلموں کے پاس جائیں تو وہ بتائیں گے کہ اسلام کی وہ کون سی بے ساختہ ادا تھی جو ان کے دل کو بھاگئی ۔ اگر ان کے بیانات ایک کتاب میں جمع کر دیئے جائیں تو مجھے یقین ہے کہ انقلاب حیات کی ایک بالکل نئی دنیا مبلغین کے سامنے آجائے گی اور انہیں اشاعت اسلام کے لیے ایسے نئے دلائل یا جدید ہتھیار مل جائیں گے جن سے اسلام کا موجودہ کتب خانہ خالی ہے ۔ "

اس کے بعد مثال کے طور پر چند واقعات بیان کرنے کے بعد ڈاکٹر اقبال نے مزید کہا : " قبول اسلام میں اصل چیز دل ہے ۔ جب دل ایک تبدیلی پر رضامند ہو جاتا ہے اور کسی بات پر قرار پکڑ لیتا ہے تو پھر باقی تمام جسم اس کے سوا کچھ نہیں کرتا کہ وہ اس تبدیلی کی تائید کے لیے وقف ہو جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page