Al-Risala · April 1985 · page 36

دل سے خطاب

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۳۶

ہمیں اسلام کے قدیم وجدید مبلغوں میں ایک واضح فرق نظر آتا ہے ۔ قدیم مبلغوں کا دار و غیرمسلموں کے دلوں پر ہوتا تھا۔ وہ اپنی للہیت ، بے نفسی ، خوش خلقی اور احسان ومروت کی جادو اثر اداؤں سے دلوں کو گرویدہ کرتے تھے۔ اور اس طرح ہزار ہا لوگ از خود بغیر کسی بحث وتکرار کے ان کے رنگ میں رنگ جاتے تھے۔ مگر جدید مبلغوں کا سارا زور دماغ کی تبدیلی پر صرف ہوتا ہے ۔ وہ صداقتِ اسلام پر ایک دلیل دیتے ہیں ۔ مقابلہ میں دوسری حجت غیر مسلم پیش کر دیتے ہیں ۔ اس پر بحث وتکرار شروع ہو جاتی ہے ۔ مسلمان اپنی بات پر اڑ جاتا ہے ۔ غیر مسلم اپنے قول پر تن جاتا ہے ۔ اس سے ضد پیدا ہو جاتی ہے ۔ اور ہدایت ختم ہو جاتی ہے ۔

" مبلغینِ اسلام کو دلوں کو متاثر کرنے کے لیے نکلنا چاہیے یا دما غوں کے ؟ " ڈاکٹر اقبال نے مزید تفصیل کرتے ہوئے کہا۔ " اس کے فیصلے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم فطرت کی روش کی پیروی کریں۔ غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ فطرت اپنی فتوحات حاصل کرنے کے لیے اپنا تعلق ہمیشہ دلوں سے جوڑتی ہے۔ فطرت کھانے میں لذت پیدا کرتی ہے اور آپ اسے بے اختیار کھا جاتے ہیں ۔ اس وقت ایک بھی شخص دماغ سے یہ نہیں پوچھتا ۔ کیا یہ کھانا طبی لحاظ سے مفید ہو گا ۔ آپ کہیں جا رہے ہوتے ہیں کہ ناگہاں پھولوں کی ایک خوشنما زمین اور لبِ جو کا ایک حسین نظارہ سامنے آجاتا ہے ، آپ وہاں بے اختیار بیٹھ جاتے ہیں ، وہیں ٹھنڈی ہوا کا ایک دلنواز جھونکا آتا ہے اور آپ کو میٹھی نیند سلا دیتا ہے ۔ اس وقت کوئی بھی شخص دماغ سے یہ نہیں پوچھتا کہ مجھے سونا چاہیے یا نہیں۔ مختصر یہ کہ فطرت ہر کام میں اسی طرح دلوں کو گرویدہ کرکے مطلب نکالتی ہے ۔ وہ دماغوں کی طرف کبھی متوجہ نہیں ہوتی۔ اسلام چونکہ سرمیںر نورِ فطرت ہے ۔ اس واسطے مبلغینِ اسلام کو چاہیے کہ اخلاق ومحبت کی گیرائیوں سے دلوں کو اس طرح شکار کریں کہ ان میں سرکشی اور انکار کی سکت ہی باقی نہ رہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مبلغِ اسلام ، اسلامی گیر کٹڑ کی عظمت کے مالک ہوں ۔ تاکہ سرکش سے سرکش آدمی بھی ان کے سامنے اپنی گردن جھکا دیں۔ باقی رہے دماغی مباحث اور عقلی تکرار ، تو اس سے نہ تو دل مطمئن ہو سکتے ہیں نہ منقلب ہو سکتے ہیں ۔ اور نہ فطرت رام ہو سکتی ہے ۔ شاید یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مولانا الیاس صاحب کی ذات اور ان کی پھیلائی ہوئی تبلیغ ، کم از کم مسلمانوں کے اندر۔ کام کی حد تک ، ڈاکٹر اقبال کے اسی خواب کی تعبیر ہے ۔ مولانا کی پوری زندگی اور تبلیغی تحریک کی پوری تاریخ اس طریقِ تبلیغ کی مثالوں سے بھری پڑی ہے اور اس کے حیرت انگیز نتائج بر آمد ہوئے ہیں۔ یہاں واقعات کو جمع کرنا مقصود نہیں ہے ۔ بس اصل مدعا کو واضح کرنے کے لیے صرف ایک مثال نقل کروں گا۔ ایک عربی مدرسہ کے کچھ طلبہ مولانا الیاس صاحب کے یہاں حاضری کے لیے نظام الدین گئے۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page