Al-Risala · April 1985 · page 38

پروگرام

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۳۸

مدرسہ کے ناظم صاحب کو قریب بلا کر کہا کہ آپ کے مدرسہ کے صدر مدرس صاحب کے نام ایک خط میں املا کراتا ہوں اس کو لکھیے ۔ اس کے بعد انہیں کے ہاتھ سے اس مضمون کا خط لکھوایا کہ " آپ کے مدرسہ سے کچھ لڑکے یہاں آئے۔ میں ان سے بہت خوش ہوں ۔ وہ یہاں سے بہت کچھ لے کر جا رہے ہیں۔ میری خصوصی دعائیں ان کے ساتھ ہیں ۔ اور آپ سے گزارش ہے کہ آپ ان سے اعزاز و اکرام کا معاملہ فرما ئیں ۔ اس کے بعد ناظم صاحب سے کہا کہ آپ بھی اس پر اپنی تصدیق لکھئے۔ ناظم صاحب نے خاموشی سے تصدیق لکھ دی ۔ اور اس کے بعد مولانا نے اپنے ہاتھ سے وہ خط لفافہ میں بند کر کے اپنے خاص آدمی کو دیا کہ جاؤ ڈاک میں ڈال آؤ۔

اس واقعہ کا اتنا زبردست اثر ہوا کہ مدرسہ کا سب سے زیادہ شریر طالب علم وہاں کا سب سے زیادہ شریف اور سنجیدہ طالب علم بن گیا ۔ اور تبلیغ کا باقاعدہ کارکن ہو گیا ۔ لوگ اس سے پوچھتے کہ تمہاری زندگی میں اتنا زبردست تغیر کیسے ہو گیا تو وہ صرف ایک جملہ کہتا ہے " مولانا الیاس نے مجھے چھین لیا" جس شخصیت کو مدرسہ کا علم اور ناظم کے اختیارات قابو میں نہیں لاسکے تھے ۔ اس کو اخلاق کی طاقت نے مسخر کر لیا ۔

اس طرح کے واقعات سے مولانا الیاس صاحب کی زندگی اور تبلیغی تحریک کی تاریخ بھری ہوئی ہے دعا اور محبت اخلاق اور خیر خواہی نے ہزاروں قلوب کو جیتنے میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ تبلیغ کی زبان میں ایک عجیب خیری شان پیدا ہو گئی ہے ۔ آپ تبلیغ کے کسی بھی جلسے میں شریک ہو کر اس کے مقررین کی تقریریں سنیئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ یہاں ایک ایسی زبان استعمال ہو رہی ہے جو ساری تحریکوں سے جدا ہے ۔ اس زبان کے اجزا اور ہیں ۔ سادگی ، گھلاوٹ حقیقت رسی، فطرت سے قریب تر استدلال، روح کو مانوس کرنے والا انداز ، دل کو چھیدنے والے کلمات ، اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تبلیغ کے کارکن ، ڈاکٹر اقبال کے الفاظ میں ، دل کی راہ سے چلتے ہیں ۔ اس لیے خواہ ان کے یہاں عقلی ساز و سامان کم ہو مگر دل والی باتوں کی بہتات ہے اور یہ اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہے ۔

پروگرام

مولانا الیاس صاحب نے اپنے کام کا جو ابتدائی خاکہ بنایا تھا ، اس کو وہ چھ نکات کی شکل میں بیان کرتے تھے :

۱۔ کلمہ اسلام کو دلوں میں بٹھانا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page