دل سے خطاب
الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۳۷
میں ایک نہایت شریر طالب علم بھی تھا جس کو اس کے ساتھیوں نے کہہ سن کر وہاں جانے کے لیے راضی کیا تھا۔ جانے کو تو وہ طالب علم چلا گیا۔ مگر جب رات ہوئی اور لوگ سو گئے تو وہ کچھ ساتھیوں کو لے کر سینما دیکھنے کے لیے دہلی روانہ ہو گیا۔ ان لوگوں کو نظام الدین سے دہلی جانے کے لیے تو بس مل گئی مگر دوسرا شو دیکھ کر جب وہ فارغ ہوئے تو واپسی کے لیے کوئی بس نہیں تھی۔ مجبوراً رات کو یہ لوگ دہلی ہی میں رہ گئے۔ یہاں نظام الدین میں صبح کی نماز کے بعد حسب معمول جب مولانا الیاس صاحب وعظ کے لیے ممبر پر بیٹھے تو انہوں نے کہا۔ مدرسہ کے لوگ جو کل شام کو آئے ہیں وہ سب قریب آجائیں! اس وقت وہاں صرف دو طالب علم تھے ۔ مولانا نے کہا خیر انتظار کیجیے۔ وہ لوگ شاید ضروریات کے لیے کہیں گئے ہوں واپس آجائیں گے تو گفتگو شروع ہوگی۔ مگر وہ لوگ کافی دیر بعد نظام الدین پہنچے۔ ۔ اب ان کا معاملہ مشتبہ ہوگیا نیز بعض ذریعوں سے بھی معلوم ہو گیا کہ وہ لوگ سینما دیکھنے کے لیے دہلی گئے ہوئے تھے۔ اس وقت مذکورہ مدرسہ کے ناظم صاحب بھی نظام الدین میں موجود تھے۔ انہیں جب معلوم ہوا کہ طلبہ نے یہاں آکر اس قسم کی "بے ہودگی" کی ہے تو وہ سخت برہم ہوئے ۔ مذکورہ طالب علم کے بارے میں پہلے ہی سے ان کی رائے خراب تھی۔ کیونکہ وہ مدرسہ میں بری عادتوں کی وجہ سے کافی بد نام تھا ۔ وہ اس قدر ڈھیٹ ہو چکا تھا کہ ایک بار مدرسہ کی انجن کے لیے چندہ وصول کرنے گیا اور اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ۲۰ ہزار روپے چندہ وصول کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ مگر روپیہ ملا تو اس نے پورے روپیہ کی ناولیں خرید ڈالیں اور ان کے پارسل انجن کے کتب خانہ کے نام روانہ کر دیئے ۔ یہاں جب ذمہ داران مدرسہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے بندھے ہوئے بنڈل بازار میں بھجوا دیئے اور انہیں ردی میں فروخت کرا دیا ۔
رات کے واقعہ کے بعد یہ سارے واقعات ناظم صاحب کے ذہن میں آگئے ۔ اس سے پہلے اس کو سمجھانے بجھانے کی ساری کوششیں نا کام ہو چکی تھیں۔ انہوں نے سوچا کہ اب یہ لڑکا نا قابلِ اصلاح ہو چکا ہے اور مدرسہ کو مزید بد نامی سے بچانے کے لیے اس کا فوراً اخراج ہونا چاہیے ۔ چنانچہ انہوں نے مدرسہ کے صدر مدرس کو خط لکھا کہ فلاں طالب علم نے یہاں آکر ہمارے مدرسہ کو سخت بد نام کیا ہے۔ ان کے نام فوراً مدرسہ سے خارج کر دیئے جائیں۔
ادھر جو صاحب اس طالب علم کو کہہ سن کر نظام الدین لائے تھے وہ پریشان ہوئے ۔ ان کی سمجھ میں آیا کہ مولانا الیاس صاحب سے یہ تمام بات کہہ دی جائے ۔ چنانچہ تنہائی میں حاضر ہو کر انہوں نے مولانا کو پورا واقعہ بتا دیا۔ مولانا نے کہا ٹھیک ہے ۔ فکر نہ کرو ۔ اللہ تعالیٰ سب درست فرمادے گا۔ اس کے بعد عصر کی نماز پڑھ کر جب شام کی مجلس ہوئی تو مولانا نے قلم کا غذا ورلفافہ منگوایا ۔ اور
‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues