Al-Risala · April 1985 · page 40

پروگرام

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۴۰

کے کسی بھی انقلاب کی تاریخ پڑھ لیجئے ۔ آپ کولے گا کہ اسی قسم کا احساس ــــ خواہ وہ باعتبار حقیقت صحیح یا غلط ــــ کچھ لوگوں میں پیدا ہو گیا تھا اور وہی بالآخر تحریک اور انقلاب کا سبب بنا۔ فرانس کا انقلاب ، کمیونزم کی کامیابیاں اور مختلف ملکوں میں قومی آزادی کی جدوجہد در اصل اسی قسم کے احساس کی بنیاد پر شروع ہوئی اور اسی کی بنیاد پر جیتی گئی۔ ابتدا میں ان میں سے کسی تحریک کے پاس نہ تو ہتھیار تھے نہ مال و دولت کی کثرت ، حتیٰ کہ آئندہ بننے والے نظام کا کوئی تفصیلی نقشہ بھی نہیں تھا۔ ان کا اول و آخر سرمایہ بس ایک تخیل تھا جوان کے دل و دماغ میں بسا ہوا تھا۔ اور وہ یہ کہ ان پر سیاسی، معاشی یا قومی "سچائی" کا انکشاف ہوا ہے۔ اس احساس نے ان کے دل و دماغ میں آگ لگادی ، ان کی قوتوں کو مجتمع کیا۔ انہیں مستقبل سے بے پروا ہو کر کے وقت کے خلاف کھڑا کردیا۔ اور انہیں ایک ایسی مجنونانہ جدوجہد میں لگا دیا جس کا آخری انجام صرف کامیابی ہو سکتا تھا۔

یہ اس یقین کا انجام تھا جو صرف جزئی نوعیت کا تھا اور جس کو ہم صحیح بھی نہیں سمجھتے ۔ پھر وہ یقین جو کلی صداقت کی بنیاد پر پیدا ہو اور جو فی الواقع صداقت ہو نہ کہ محض غلط فہمی سے صداقت سمجھ لیا گیا ہو، ایسی صداقت اگر دلوں میں اتر جائے اور ایسے دین کے لیے اگر جنون پیدا ہو جائے تو اس کا کیا انجام ہوگا۔ دوسری تحریکوں نے اگر کسی جزرائی خطہ یا زندگی کے کسی گوشہ کے لیے ذہن کو متحرک کیا ہے تو یہ عقیدہ سارے کرہ ارض کے لیے انسان کو بے تاب کر دینے والا ہے۔ دوسری تحریکوں کے افراد اگر ملک وبقوم کے نام پر توپوں کے دہانے کے آگئے کھڑے ہو گے تو وہ تحریک جس کے افراد مالک کائنات کے اعتماد پر اٹھے ہوں ان کے سیل رواں کو کون روک سکتا ہے۔ دوسری تحریک کے افراد اگر اپنے خود ساختہ تخیلات کی برتری سے لوگوں کو مرعوب کر سکتے تھے تو عالم کل اور خالق فطرت کے دیے ہوئے تصورات میں جہان گیری کی کیا کچھ طاقت ہوگی ۔

حقیقت یہ ہے کہ مولانا الیاس صاحب امت کو جو کلمہ دینا چاہتے تھے وہی دین کی اصل بنیاد ہے۔ وہ اس زمین کی عظیم ترین طاقت ہے ۔ اس بنا پر اس تحریک کو کلمہ کی تحریک کہا جا سکتا ہے ۔ مگر ایسا کہنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہر تحریک جو بھی دنیا میں اٹھی ہے وہ ابتداءً کلمہ ہی کی تحریک تھی خواہ وہ انقلابی تحریک ہو یا غیر انقلابی تحریک ۔ اور خواہ اس کا کلمہ سیاسی کلمہ ہو یا معاشی کلمہ یا قومی کلمہ۔ پھر دینی کلمہ کی بنیاد پر اگر کوئی تحریک اٹھے تو اس کو محدود یا ناقص کس بنا پر کہا جا سکتا ہے، جب کہ دینی کلمہ سارے کلمات کا جامع ہے۔

مولانا کی دعوت کا دوسرا جز ر نماز ہے۔ ۔ عام طور پر لوگ نماز کی حقیقت اور اہمیت کو نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page