Al-Risala · April 1985 · page 41

پروگرام

الرسالہ، اپریل ۱۹۸۵، صفحہ ۴۱

جانتے اس لیے وہ اس کی واقعی عظمت کو نہیں سمجھ سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح کلمہ کو ذہنی طور پر بنیادی حیثیت حاصل ہے، اسی طرح نماز کا انسان کی عملی زندگی میں بنیادی مقام ہے۔ نماز اپنی اصلی اور اندرونی حقیقت کے اعتبار سے خدا کی طرف متوجہ ہونے اور اس سے حیاتی ربط قائم کرنے کا نام ہے۔ نماز بندے کو اپنے رب سے اس طرح جوڑتی ہے کہ وہ گویا کہ اسے دیکھنے لگتا ہے اور اس سے اس کی سرگوشیاں جاری ہو جاتی ہیں۔ نماز وہ مقام ہے جہاں خدا اپنے بندوں سے ملاقات کرتا ہے۔ جب آدمی نماز کو اس کے سارے ارکان کے ساتھ ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے اور دل و دماغ کی پوری یکسوئی کے ساتھ اس میں مشغول ہوتا ہے تو وہ ایک اور ہی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کی روح ایک ایسے تجربہ سے دوچار ہوتی ہے جہاں عبدیت اور معبودیت کی حدیں ملنے لگتی ہیں۔ بندگی، خدائی کے جلوؤں میں نہا اٹھتی ہے۔ یہ تجربہ انسان کی شخصیت کو ایک نئی جلا دیتا ہے اور اس کو ایسی عجیب و غریب نعمتیں عطا کرتا ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن میں نماز کی حقیقت کی مکمل تفصیل ہے۔ یہاں میں مُنفراً چند کا ذکر کرتا ہوں۔

ان میں سے ایک چیز وہ ہے جس کو قرآن میں "خشوع" کہا گیا ہے۔ خشوع کے معنی ہیں فروتنی عاجزی اور جھکاؤ۔ نماز کی شکل میں آدمی جب خدا کے سامنے حاضر ہوتا ہے اور اس کو یاد کرتا ہے تو خدا کی خدائی اور اپنی بندگی کا احساس اس پر اس طرح طاری ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک قسم کی عاجزی اور فروتنی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسا وجود سمجھنے لگتا ہے جو خدا کے سامنے ہمیشہ جھکا رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر سے کبرا نکل جاتا ہے جو اکثر برائیوں کا سر چشمہ ہے۔ کمزور کے اوپر طاقت ور کا ظلم، ماتحت کے اوپر افسر کا بر سلوک، قانونی طور پر بہتر پوزیشن والے کا قانونی طور پر کمتر پوزیشن والے کو دبانا، صاحب اثر شخص کا بے اثر اشخاص کو خاطر میں نہ لانا، صاحب مال کا بے مال لوگوں سے بے اعتنائی برتنا، اکثریت کے افراد کا اقلیت کے افراد کو لوٹنا، غرض جب بھی کوئی زور آور آدمی بے زور افراد کو تختہ مشق بناتا ہے تو ایسی تمام صورتوں میں ہمیشہ کبر ہی اس کی خاص وجہ ہوتی ہے۔ اگر کسی معاشرے کے افراد میں کبر کا خاتمہ ہو جائے تو بے شمار برائیوں کا خود بخود خاتمہ ہو جائے گا۔

نماز کا دوسرا فائدہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ۔ ۔ " وہ برائیوں اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے"۔ نماز میں آدمی اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہ خدا کا بندہ ہے، وہ اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ وہ خدا کا تابعدار بن کر زندگی گزارے گا، وہ اس آنے والے دن کو یاد کرتا ہے جب اس کی زندگی

‹ Previous page Next page › Contents of April 1985 All issues

Printed page