Al-Risala · January 1985 · page 19

سیاحت

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۱۹

سیاحت

سیاحت موجودہ زمانہ میں ایک عظیم انڈسٹری ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں مختلف قسم کے اعداد و شمار نہایت اہتمام کے ساتھ جمع کئے جاتے ہیں۔ ہر ملک کی وزارتِ سیاحت ان کا خصوصی مطالعہ کرتی ہے اور ان کی بنیاد پر ترقیاتی نقشے بناتی ہے۔

ایک تخمینہ میں بتایا گیا ہے کہ عرب ملکوں کے سیاح ہر سال سیاحت پر جو رقم خرچ کرتے ہیں اس کی مقدار گیارہ بلین ڈالر سے اوپر ہے۔ یعنی ہندستانی کہ میں تقریباً ایک سو دس کھرب روپیہ یہ رقم دنیا بھر میں سیاحی پر خرچ کی جانے والی کل رقم کا دس فی صد حصہ ہے۔ یورپ میں جانے والا ایک عرب اوسطاً ۸۶۰ پونڈ خرچ کرتا ہے۔ یہ دنیا کے کسی بھی ملک کی فی سیاح خرچ کی جانے والی رقم سے بہت زیادہ ہے۔

قرآن میں سیاحت کو اہلِ ایمان کی صفت بتایا گیا ہے۔ مگر اس سیاحت کا مقصد صرف دو ہوتا ہے۔ دنیا کے واقعات سے عبرت اور نصیحت لینا یا دعوت و تبلیغ کرنا۔ گویا مومن کی سیاحت دینی سیاحت ہوتی ہے نہ کہ تفریحی سیاحت۔

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں، خصوصاً عربوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ موقع دیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں سفر کریں اور اس کی ہر ممکن قیمت ادا کر سکیں۔ اگر مسلمانوں کے اندر صحیح شعور زندہ ہو تو یہ موقع ان کے لئے زبردست دینی فائدہ کا ذریعہ بن جائے۔

مگر موجودہ حالت میں مسلمانوں کو بے پناہ رقم خرچ کرنے کے باوجود نہ پہلا فائدہ حاصل ہو رہا ہے اور نہ دوسرا فائدہ ۔ دنیا بھر کی سیاحت کے باوجود نہ وہ دنیا سے عبرت اور نصیحت کی غذا حاصل کر سکے۔ اور نہ دنیا کے سامنے خدا کے دین کی گواہی دے سکے۔

اس کی وجہ مسلمانوں کی بے مقصدیت ہے۔ آج مسلمانوں کے سامنے کوئی اونچا مقصد نہیں، اس لئے وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ جدید مواقع کو وہ کس طرح اپنے حق میں استعمال کریں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے قائدین نے انہیں صرف جھوٹے فخر کی غذا دی ہے۔ اور جھوٹا فخر بلاشبہ سب سے زیادہ بری خوراک ہے جو اس دنیا میں کسی کو دی جا سکتی ہے۔ جن لوگوں کے ذہن میں جھوٹا فخر سما جاتا ہے وہ اپنے آپ کو کچھ کرنے سے فارغ سمجھ لیتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ ان کے لئے کیا جائے نہ کہ وہ دوسروں کے لئے کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues

Printed page