سیاحت
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۵، صفحہ ۲۰
یہ انسان
لوگوں کو دیکھئے وہ یا "ملت" کے مسائل پر باتیں کرتے ہوئے ملیں گے یا زیادہ سے زیادہ دین کے ظاہری پہلوؤں پر۔ دین کے معنوی پہلوؤں پر بات کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ اس کی وجہ شاید انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ صرف دکھائی دینے والی چیزوں میں اپنی توجہ لگاتا ہے۔ جو چیز دکھائی نہ دے اس میں توجہ لگانا اس کے لئے مذہب سے زیادہ مشکل کام رہا ہے۔ ماضی میں بھی اور آج بھی انسان ان چیزوں کو اپنا معبود بناتا ہے جو اس کو دکھائی دیتی ہیں اور جو چیز دکھائی نہیں دیتی، اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس طرح اس کو اپنا معبود بنائے۔ وہ ان کاموں میں با آسانی مشغول ہو جاتا ہے جو دکھائی دیں مگر جو کام بنطاہر دکھائی نہ دیتے ہوں ان میں مشغول ہو نا وہ نہیں۔ جانتا جو چیز محسوس طور پر سامنے موجود ہو اس کی اہمیت کو وہ خوب جان لیتا ہے مگر جو چیز محسوس طور پر اس کے سامنے موجود نہ ہو اس کو وہ اس طرح نظر انداز کر دیتا ہے جیسے وہ اس کو جانتا ہی نہیں۔ یہ ظاہر پرستی ہی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اس کمزوری کا آخری اظہار تو وہ ہے جس کو شرک کہا جاتا ہے۔ نیز اس کمزوری کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ آدمی دین پر ایمان لانے کے باوجود دین ترقی نہیں کرتا۔
مشرک وہ ہے جو نہ دکھائی دینے والے خدا کو مانتے ہوئے کچھ دکھائی دینے والی چیزوں کو بھی خدا بنا لے۔ ملحد وہ ہے جو یہ کہہ کر سرے سے کسی خدا کا انکار کر دے کہ وہ اس کو دکھائی نہیں دیتا یہ گمراہی کی زیادہ سنگین قسمیں ہیں۔
مگر یہاں ایک اور چیز ہے جو اپنے انجام کے اعتبار سے کم اہم نہیں۔ وہ ہے ایمان کے باوجود ایمان کا بے اثر رہنا۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب آدمی خدا پر ایمان لائے مگر وہ خدا کو دیکھ نہ سکے۔ وہ خدا کو تو مانے مگر اس نے گہرائی کے ساتھ اس کا ادراک نہ کیا ہو۔ وہ خدا کا معتقد ہو مگر محسوسات سے بلند ہو کر وہ خدا کو اپنا مرکز توجہ نہ بنا سکے مزید یہ کہ غیر محسوس خدا کو نہ پا نا گو یا چھپی ہوئی معنویت کو نہ پانا ہے ایسا شخص انہیں انسانوں کو پہچان بناتا ہے جو اسے گر د ظاہری پالت اور کاغذ پر بھر کر کے ہے ہوں، جو انسان اور انسان تصور کا کا جو دان کے لیے ہو نے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1985 All issues