کامیاب تدبیر
الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۸
کامیاب تدبیر
ایک مغربی کمپنی نے موٹر کار کا ایک ٹائر بنایا۔ اس نے اشتہار دیا کہ جو شخص ہمارے ٹائر میں کوئی واقعی خرابی بتائے گا اس کو پچاس ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔ جب اس کمپنی کا ٹائر بازار میں آیا تو لوگ اس کو خریدنے کے لئے ٹوٹ پڑے۔ لوگوں نے سوچا کہ اگر کوئی خرابی نکال پائے تو پچاس ہزار ڈالر مل جائیں گے۔ ورنہ ٹائر تو ہے ہی۔
کمپنی کو بے شمار شکایت نامے موصول ہوئے۔ چھان بین کے بعد معلوم ہوا کہ ان میں سے ۲۰ فیصد خطوط قابلِ لحاظ ہیں۔ چنانچہ کمپنی نے ہر علاقہ کے منتخب مکتوب نگاروں کو دعوت نامے روانہ کئے۔ ان کو آمدورفت کا کرایہ دیا اور ان کو عمدہ ہوٹلوں میں ٹھہرایا۔ کمپنی کے تحت ایک سیمینار میں یہ لوگ شریک ہوئے۔ ہر ایک نے اپنی اپنی تنقیدی رائیں پیش کیں۔ بحث مباحثہ کے بعد ایک متفقہ تجویز منظور ہوئی اور انعام بھی تقسیم کیا گیا۔
اس کے بعد کمپنی نے نیا ٹائر بنایا۔ اس نے نئے ٹائر کی قیمت پہلے کے مقابلہ میں دگنا کر دی جب اشتہار دیا گیا تو دوسرا ٹائر پہلے ٹائر سے بھی زیادہ فروخت ہوا۔ پہلا ٹائر کمپنی نے اپنی رائے سے بنایا تھا۔ دوسرے ٹائر میں عوام کی رائے شامل ہو گئی۔ لوگوں نے سمجھا کہ یہ ٹائر استعمال کرنے والوں کی تجاویز اور مشوروں کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس لئے وہ اس ٹائر سے زیادہ اچھا ہو گا جس کو کمپنی خود اپنی رائے سے بنائے۔
موجودہ دنیا میں ہر آدمی دوسرے آدمی سے بندھا ہوا ہے۔ ہر آدمی دوسروں کو شریک کرنے کے بعد کامیاب ہوتا ہے۔ اس لئے موجودہ دنیا میں کامیاب عمل کے لئے دوسروں کی رعایت ضروری ہے۔ آپ اپنی ذات کے لئے کوئی کامیابی اس وقت حاصل کر سکتے ہیں جب کہ دوسروں کو کامیاب بنانے میں بھی آپ نے کوئی حقیقی حصہ ادا کیا ہو۔
اس دنیا میں کامیاب ہونے کے لئے آدمی کو نفع بخش بننا پڑتا ہے۔ جن لوگوں سے وہ لے رہا ہے ان کو یہ یقین دلانا پڑتا ہے کہ وہ ان کو کچھ دے بھی رہا ہے۔ یہ دنیا دو طرفہ لین دین کا بازار ہے۔ جو دوسروں کو دے گا وہی دوسروں سے پائے گا۔ جس کے پاس دوسروں کو دینے کے لئے کچھ نہ ہو۔ اس کو شکایت نہ ہونی چاہئے اگر دوسرے اسے کچھ دینے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔