Al-Risala · May 1985 · page 17

خواب میں

الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۷

خواب میں

مسٹر رام رتن کپلا ریفریجریٹرز اور ائکنڈیشنز کا بزنس کرتے ہیں۔ ان کی فرم کا نام کیپنس ہے نئی دہلی میں آصف علی روڈ پر اس کا صدر دفتر ہے۔

مسٹر رام رتن کپلا کو اپنے فرم کے لئے ایک سلوگن کی ضرورت تھی۔ انھوں نے اخبار میں اعلان کیا کہ جو شخص کم لفظوں میں ایک اچھا سلوگن بنا کر دے گا اس کو معقول انعام دیا جائے گا۔ بار بار کے اعلان کے باوجود کوئی ایسا شخص نہ ملا جو انھیں اچھا سلوگن دے سکے۔ بعض لوگوں نے کچھ فقرے لکھ کر بھیجے مگر مسٹر کپلا کو وہ پسند نہ آئے ۔ سلوگن کو Penetrating ہونا چاہئے۔ مگر یہ سلوگن Penetrating نہ تھے“ انھوں نے ۴ دسمبر ۱۹۸۳ کی ایک ملاقات میں کہا۔

مسٹر کپلا اسی ادھیڑ بن میں رات دن لگے رہے۔ وہ مسلسل اس کے بارے میں سوچتے رہے۔ ان کا دماغ برابر سلوگن کی تلاش میں لگا ہوا تھا مگر کامیابی نہیں ہو رہی تھی۔ اسی فکرمیں تقریبا چھ سال گزر گئے اس کے بعد ایسا ہوا کہ مسٹر کپلا نے ایک روز رات کو ایک خواب دیکھا۔ خواب میں انھوں نے دیکھا کہ وہ ایک باغ میں ہیں۔ نہایت سہانا موسم ہے۔ طرح طرح کی چڑیاں درختوں پر چہچہارہی ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر وہ بے حد خوش ہو گئے۔ ان کی زبان سے نکلا: ویدر (Weather) ہو تو ایسا یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھ کھل گئی ۔ اچانک انھیں معلوم ہوا کہ انھوں نے وہ سلوگن دریافت کر لیا ہے جس کی تلاش میں وہ برسوں سے سرگرداں تھے۔ فوراً ان کے ذہن میں یہ انگریزی جملہ مرتب ہو گیا: KAPSONS: the weather masters خواب انسانی دماغ کی وہ سرگرمی ہے جس کو وہ نیند کی حالت میں جاری رکھتا ہے۔ اگر آپ اپنے ذہن کو سارے دن کسی چیز میں مشغول رکھیں تو رات کے وقت وہی چیز خواب میں آپ کے سامنے آئے گی۔ تاریخ کی بہت سی ایجادات خواب کے ذریعہ ظہور میں آتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ موجد اپنی ایجاد میں اتنا مشغول ہوا کہ وہ سوتے میں بھی اسی کا خواب دیکھنے لگا۔ خواب دراصل کسی چیز میں کامل ذہنی وابستگی کا نتیجہ ہے۔ ایسے آدمی کے عمل کی مدت ۱۴ گھنٹے کے بجائے ۲۴ گھنٹے ہو جاتی ہے یہی کسی مقصد میں کامیاب ہونے کا راز ہے۔ اس قسم کی گہری وابستگی کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔ نہ دنیا کا اور نہ آخرت کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1985 All issues

Printed page