Al-Risala · May 1985 · page 33

دعوت میں انہماک

الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۳۳

اس تقریر کے دوران غالباً آدھا سیر خون مولانا کے جسم سے نکل گیا ہوگا مگر اللہ کے اس بندے کو کچھ پتہ نہ تھا کہ کیا ہو رہا ہے"۔

گھر کے لوگ، خاص طور پر بیوی کو جتنی خبر کسی شخص کی ہوتی ہے، اتنی دوسروں کو نہیں ہو سکتی۔ مولانا کی اہلیہ جواب مرحومہ ہو چکی ہیں دق کی مریض تھیں۔ اور آخر میں حالت کافی خراب ہوگئی۔ مگر مولانا کے اوقات میں ان کا حصہ بہت کم ہوتا تھا۔ یہ دیکھ کر ایک صاحب نے اپنی بیوی کو مولانا کی اہلیہ کے پاس بھیجا اور یہ بھی ہدایت کر دی کہ اس بارے میں تم ان سے اس طرح کی جذباتی باتیں کرنا کہ ان کے دل کی بات زبان پر آجائے اور اگر مولانا سے انہیں کوئی شکایت ہو تو ظاہر ہو جائے۔ چنانچہ راوی موصوف کی اہلیہ نے مرحومہ سے بات کی۔ ان کا بیان ہے کہ انہوں نے مولانا کی طرف سے خود مدافعت کی اور کہا کہ وہ دن رات دین کی فکر اور دین کے کام میں لگے رہتے ہیں، انہیں اپنا بھی ہوش نہیں ہے۔ میں نے خود ہی ان سے کہہ دیا ہے آپ میری فکر نہ بالکل کریں دوا علاج ہو ہی رہا ہے۔ اگر اللہ نے جنت میں جمع فرما دیا تو وہاں اطمینان سے رہنے کا موقع ملے گا۔ چند مہینوں کے بعد اسی مرض میں خاص نماز کی حالت میں مرحومہ کا انتقال ہو گیا۔ آپ کی دعوت یہ تڑپ اور لگن کس کام کے لیے تھی۔ صرف اس لیے کہ لوگوں کے اندر دین کا صحیح تصور آجائے اور زندگیاں اس کے مطابق چل پڑیں۔ مولانا کے نزدیک ایمان کا مطلب ایک لفظ میں یہ تھا کہ اللہ سے سب کچھ ہوتا ہے ، چیزوں سے کچھ نہیں ہوتا" ایک مرتبہ فرمایا:

کام یہ ہے کہ کام کرنے والے کا اس ذات پر یقین قائم ہو جائے جس کے کرنے سے کام ہو گا ۔ یعنی اللہ جل جلالہ کی ذات پر، اور اس کی حیثیت کام کرنے والے پر ایسی منکشف ہو کہ اپنی ذات اور کوئی دوسری ذات دکھائی نہ دے۔ دوسرا یقین یہ ہو کہ جب میں ظاہر و باطن سے حضور کے طریقوں پر آ جاؤں گا تو رب العزت دنیا و آخرت میں اچھے حالات لائے گا۔

ایک تقریر میں فرمایا :

محنت کے دو میدان ہیں۔ ایک زمین اور زمین سے پیدا ہونے والی چیزیں۔ دوسرے ایمان اور ایمان والے اعمال ۔ پہلی محنت کا معاوضہ دنیا میں ملتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ملتا کہ محنت کرنے والے اس پر خوش اور مطمئن ہوں ۔ دوسری محنت کا معاوضہ دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ

‹ Previous page Next page › Contents of May 1985 All issues

Printed page