دعوت میں انہماک
الرسالہ، مئی ۱۹۸۵، صفحہ ۳۴
تڑ دیتا ہے۔ تم جن کو بڑی طاقتیں کہتے ہو، خدا کے نزدیک ان کی حیثیت مکڑی کے جالے کے برابر بھی نہیں ہے۔ اس دنیا میں پاکیزہ انسانوں کے نہ ہونے کی وجہ سے مکڑیوں کے بڑے بڑے جالے لگ گئے تھے، جب حضور کی سعی سے پاکیزہ انسان بن گئے تو خدا نے عذاب کی ایک جھاڑو سے روم و فارس کے جالے صاف کر دیئے تھے۔ بالکل یہی صورت روس اور امریکہ کی ہوگی “ ایک طویل مکتوب کے چند فقرے یہ ہیں:
”اللہ نے انسانوں کی تمام کامیابیوں کا دار و مدار انسان کے اندرونی مایہ پر رکھا ہے۔ کامیابی اور ناکامی انسان کے اندر کے حال کا نام ہے ..... اللہ جل شانہ ملک و مال کے ساتھ انسان کو ذلیل کر کے دکھا دیں اور فقر کے نقشہ میں عزت دے کر دکھا دیں۔ انسان کے اندر کا یقین اور اندر سے نکلنے والے عمل اگر ٹھیک ہوں گے تو اللہ جل شانہ کامیابی کی حالت پیدا فرما دیں گے خواہ چیزوں کا نقشہ کتنا ہی پست کیوں نہ ہو۔ ..... جو کچھ قدرت سے بنا ہے وہ قدرت کے ماتحت ہے .... ہر شکل پر خواہ ملک کی ہو یا مال کی، برق کی ہو یا بھاپ کی، ان کا ہی قبضہ ہے اور وہ ہی تصرف فرماتے ہیں۔ جہاں سے انسان کو تعمیر نظر آتی ہے وہاں سے تخریب لا کر دکھا دیں اور جہاں سے تخریب نظر آتی ہے وہاں سے تعمیر لا کر کے دکھا دیں۔ .... اللہ جل شانہ کی ذاتِ عالی سے تعلق پیدا ہو جائے اور ان کی قدرت سے براہِ راست استفادہ ہو، اس کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے طریقے لے کر آتے ہیں۔ جب ان کے طریقے زندگیوں میں آئیں گے تو اللہ جل شانہ ہر نقشے میں کامیابی دے کر دکھائیں گے ..... آج امت میں کسی حد تک انفرادی اعمال کا رواج ہے گو ان کی حقیقت نکلی ہوئی ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے طفیل پوری امت کو دعوت و والی محنت ملی تھی اس کے بندوں کا تعلق اللہ جل شانہ سے قائم ہو جائے۔ اس کے لیے انبیاء علیہم السلام والے طرز پر اپنی جان و مال کو جھونک دینا اور جن میں محنت کر رہے ہیں ان سے کسی چیز کا طالب نہ بننا، اس کے لیے ہجرت بھی کرنا اور نفرت بھی کرنا ..... اس راستے میں محنت کرنے والوں