Al-Risala · June 1985 · page 4

خدا کا ثبوت

الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۴

خدا کا ثبوت

اگر ایک انسان کا وجود ہے تو ایک خدا کا وجود کیوں نہیں۔ اگر ہوا اور پانی ، درخت اور پتھر، چاند اور ستارے موجود ہیں تو ان کو وجود دینے والے کا وجو د مشتبہ کیوں ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تخلیق کی موجودگی عمل تخلیق کا ثبوت ہے۔ اور انسان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں ایک ایسا خالق موجود ہے جو دیکھے، جو سوچے اور واقعات کو ظہور میں لائے۔ اس میں شک نہیں کہ خدا ظاہری آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔ مگر اس میں بھی شک نہیں کہ اس دنیا کی کوئی بھی چیز ظاہری آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی۔ پھر کسی چیز کو ماننے کے لئے دیکھنے کی شرط کیوں ضروری ہو۔

آسمان پر ستارے جگمگاتے ہیں۔ عام آدمی سمجھتا ہے کہ وہ ستاروں کو دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ خالص علمی اعتبار سے یہ صحیح نہیں۔ جب ہم ستاروں کو دیکھتے ہیں تو ہم ستاروں کو براہ راست نہیں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ ان کے ان اثرات کو دیکھ رہے ہوتے ہیں جو ستاروں سے جدا ہو کر کروڑوں سال کے بعد ہماری آنکھوں تک پہنچتے ہیں۔

یہی تمام چیزوں کا حال ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز جس کو انسان ”دیکھ“ رہا ہے۔ وہ صرف بالواسطہ طور پر اسے دیکھ رہا ہے۔ براہِ راست طور پر انسان کسی چیز کو نہیں دیکھتا۔ اور نہ اپنی موجودہ محدودیت کے ساتھ کبھی دیکھ سکتا۔

پھر جب دوسری تمام چیزوں کے وجود کو بالواسطہ دلیل کی بنیاد پر مانا جاتا ہے تو خدا کے وجود کو بالواسطہ دلیل کی بنیاد پر کیوں نہ مانا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا اتنا ہی ثابت شدہ ہے جتنا کہ اس دنیا کی کوئی دوسری چیز۔ اس دنیا کی ہر چیز بالواسطہ دلیل سے ثابت ہوتی ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز اپنے اثرات کے ذریعہ سے پہچانی جاتی ہے۔ ٹھیک یہی نوعیت خدا کے وجود کی بھی ہے۔

خدا یقیناً براہِ راست ہماری آنکھوں کو دکھائی نہیں دیتا۔ مگر خدا اپنی نشانیوں کے ذریعہ یقیناً دکھائی دیتا ہے۔ اور بلا شبہہ خدا کے علمی ثبوت کے لئے یہی کافی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues

Printed page