Al-Risala · June 1985 · page 5

چھت گرپڑی

الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۵

چھت گرپڑی

۱۹۷۸ کا واقعہ ہے۔ میں اعظم گڑھ کی ایک دکان میں داخل ہوا۔ وہاں میرے ایک جانے پہچانے بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان کو سلام کیا۔ مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے دو بارہ سلام کیا۔ مگر میں نے دیکھا کہ اب بھی وہ خاموش ہیں۔ وہ میری طرف دیکھ رہے تھے مگر کچھ بول نہیں رہے تھے۔ "کیا یہ کوئی دوسرے صاحب ہیں" میں نے سوچا۔ مگر میری آنکھیں اس شبہہ کی تردید کر رہی تھیں۔ جو شخص میرے سامنے بیٹھا ہوا تھا وہ یقینی طور پر وہی شخص تھا جس کو میں پندرہ سال سے جانتا ہوں۔ بظاہر یہ بھی ناممکن تھا کہ وہ مجھ کو بھول گئے ہوں۔

دکان کے مالک کو جلد ہی میری حیرانگی کا احساس ہو گیا۔ اس نے بتایا کہ اصل قصہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایک سخت حادثہ پیش آگیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں۔ وہ اپنا نیا مکان بنا رہے تھے۔ دیواریں کھڑی ہو گئیں تو حسب قاعدہ ان کے اوپر سانچہ بنا کر چھت ڈلوائی مگر ایک ماہ بعد جب سانچہ کھولا گیا تو ساری چھت دھڑام سے گرپڑی۔ اس حادثہ کا ان کے دماغ پر اتنا اثر ہوا کہ وہ نیم پاگل ہو گئے۔ اب وہ نہ کوئی کام کرتے ہیں، نہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ بولتے ہیں۔ بس بت کی طرح اِدھر اُدھر پڑے رہتے ہیں جیسا کہ اس وقت آپ ان کو دیکھ رہے ہیں۔ مزید تحقیق کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہاں کچھ لوگوں نے یہ کار و بار کیا ہے کہ سیمنٹ کے رنگ کی مٹی (پنڈول) کو باریک پیس کر بوریوں میں بھر دیتے ہیں۔ یہ مٹی دیکھنے میں بالکل سیمنٹ جیسی ہوتی ہے۔ اس لئے لوگ اس کو سیمنٹ سمجھ کر خرید لیتے ہیں۔ مذکورہ بزرگ کو بھی اتفاق سے اسی قسم کی سیمنٹ مل گئی۔ اور اسی سیمنٹ سے انھوں نے اپنی چھت بنوادی۔ ظاہر ہے کہ ایسی سیمنٹ سے بنی ہوئی چھت کا وہی انجام ہونا تھا جو ہوا۔

اسی طرح کوئی دولت کو اپنی چھت بنائے ہوئے ہے۔ کسی کو اپنے الفاظ پر بھروسہ ہے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ اس کے ساتھیوں کی مدد اس کے لئے کافی ہے۔ کوئی بڑوں کا سہارا پکڑے ہوتے ہے۔ مگر یہ سب جھوٹے سہارے ہیں۔ قیامت جب ظاہری سانچہ کو ہٹائے گی تو اچانک لوگوں کی چھت ان کے اوپر اس طرح گر پڑے گی کہ وہاں کوئی تنکا بھی نہ ہوگا جو آدمی کا سہارا بن سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues

Printed page