ارتقاء کا فریب
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۹
3. Neanderthal Man 4. Cro-magnon Man مگر بعد کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ پلٹ ڈاون میں ایک مکمل فریب تھا۔ اس سلسلہ میں سائنس دانوں کے تحقیقی نتائج مختلف کتابوں اور مقالات میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس کو جاننے کے لئے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۷۸) کا مقالہ "پائلٹ ڈاون فورجری نامی کتاب کا مطالعہ کافی ہے۔ جس کو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا ہے۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں : 1. Bulletin of the British Museum (Natural History)
Vol. 2, No. 3 and 6 2. J.S. Weiner, The Piltdown Forgery (1955)
3. Ronald Millar, The Piltdown Men (1972)
4. Readers Digest, November 1956 5. Popular Science (Monthly) 1956 چارلس ڈاسن (Charles Dawson) نامی ایک انگریز پتھر ہڈیوں (Fossil Bones) کے جمع کرنے کا بہت شائق تھا۔ ۱۹۱۲ء کا واقعہ ہے کہ وہ کچھ ہڈیوں کو لے کر برٹش میوزیم پہنچا اور یہ خبر دی کہ یہ ٹکڑے اسے جنوبی انگلینڈ کے ایک مقام پلٹ ڈاون (Piltdown) میں ایک کھوہ کے اندر کنسکر یوں کے درمیان پڑے ہوئے ملے ہیں۔ برٹش میوزیم کے ایک نامور عالم ڈاکٹر آرتھر اسمتھ ووڈورڈ (A.S. Woodward) نے اس میں خصوصی دلچسپی لی اور بتائے ہوئے مقام پر پہنچ کر کھدائی کے ذریعہ مزید ٹکڑے حاصل کئے ۔ اس طرح میں سے کچھ زیادہ ہڈیوں اور دانت کے ٹکڑے جمع کر کے ان کا مطالعہ شروع کیا گیا۔
ان حاصل شدہ ٹکڑوں میں سب سے زیادہ نمایاں ایک جبڑے کا ٹوٹا ہوا حصہ تھا جو واضح طور پر ایک بندر کا جبڑا معلوم ہوتا تھا۔ مگر اس میں ایک خاص چیز بندر سے مختلف تھی۔ یہ اس میں لگے ہوئے داڑھ کے دو دانت تھے جن کی اوپر کی سطح ہموار (Flat) تھی ۔ جو کہ صرف کسی انسانی دانت ہی میں ہو سکتی ہے۔ چنانچہ قیاس کر لیا گیا کہ یہ جبڑا کسی قدیم انسان کا ہے۔ اور اس کے بعد نہایت آسانی سے اس کو ارتقاء کی ایک گم شدہ کڑی قرار دے دیا گیا۔ تلاش کرنے والوں نے جلد ہی پلٹ ڈاون کے آس پاس وہ کھوپڑی بھی حاصل کر لی جو در اصل کے اس انسان کے سر پر قدرت نے پیدا کی تھی ! مذکورہ بالا کھوہ میں ماقبل تاریخ کے زمانے کے کچھ جانوروں کے آثار ملے جن سے یہ متعین ہو گیا کہ "پلٹ ڈاون میں " قدیم بر فانی دور کا انسان ہے جو پانچ لاکھ سال پہلے زمین کے اوپر گزر چکا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues