ارتقاء کا فریب
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۸
ارتقاء کا فریب
نظریہ ارتقاء کا دعویٰ ہے کہ انسان اور حیوان دونوں ایک ہی نسل سے ہیں۔ انسان دوسرے حیوانات ہی کی ترقی یافتہ نوع ہے نہ کہ کوئی علیحدہ نوع۔ اس دعویٰ کے سلسلے میں جو سوالات پیدا ہوتے ہیں ان میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعہ ہے تو بیچ کی وہ انواع کہاں ہیں جو مفروضہ ارتقائی عمل کے مطابق ابھی موجودہ انسان کے مقام تک نہیں پہنچی تھیں۔ وہ ابھی حیوان اور انسان کے درمیان تدریجی ارتقاء کے مراحل طے کر رہی تھیں۔
اس نظریہ کے حامیوں کے پاس اس کے جواب میں قیاس و گمان کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ چارلس ڈارون نے اپنی کتاب میں بار بار ہم بخوبی قیاس کر سکتے ہیں (We may well suppose) کا جملہ استعمال کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یقیناً ایسا ہوا ہے، اگرچہ ابھی ہیں اس کے تمام نمونے حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔ اس فرضی یقین کی بنیاد پر ایک پورا شجرہ نسب تیار کر لیا گیا ہے جو انسان کی نسل کو بندر کی نسل تک جا ملاتا ہے۔ بندر اور انسان کے درمیان کی یہ کڑیاں تمام کی تمام مفروضہ کڑیاں ہیں مگر بالکل غلط طور پر ان کو گم شدہ کڑیاں (Missing links) کہا جاتا ہے۔
ان خیالی قسم کی گم شدہ کڑیوں کی تلاش پچھلے ایک سو سال سے جاری ہے۔ بار بار دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فلاں گم شدہ کڑی ہاتھ آگئی ہے۔ انھیں میں سے ایک کڑی وہ ہے جس کو پلٹ ڈاؤن مین (Piltdown Man) کہا جاتا ہے۔
پلٹ ڈاؤن مین کو تقریباً آدھی صدی تک "عظیم دریافت کہا جاتا رہا۔ یہ سمجھا جاتا رہا کہ یہ ماقبل تاریخ کا وہ انسان ہے جو ایک طرف انسانی اوصاف کا حامل تھا اور دوسری طرف وہ بندر (چمپینزی) کی بھی کچھ خصوصیات اپنے اندر رکھتا تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں باقاعدہ اس کے حوالے شامل ہو گئے۔ وہ کالجوں کے نصاب میں پڑھایا جانے لگا۔ مثال کے طور پر آر ایس لُل (R.S. Lull) کی مشہور کتاب عضویاتی ارتقاء (Organic Evolution) سات صفحات پر مشتمل ہے اور ٹیکسٹ بک کی حیثیت سے رائج ہے۔ اس میں انسان اور حیوان کے درمیان جن معلوم "کڑیوں" کا ذکر کیا گیا ہے وہ حسب ذیل چار ہیں:
1. Ape-man of Jawa 2. Piltdown man
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues