Al-Risala · June 1985 · page 11

ارتقاء کا فریب

الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۱۱

چکنا کر دیا ہو۔ " اس کو ایسا محسوس ہوا جی وہ حقیقت کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اب وہ اپنے سامنے تحقیق کا ایک نیا میدان پارہا تھا۔

وینر نے اپنے ایک ساتھی سرولفر ڈلی گروز کلارک (Sir Wilfred Le Gros Clark) کی معیت میں چمپینزی (بندر کی ایک قسم) کا ایک داڑھ کا دانت لیا، اس کو ریت کر ہموار کیا اور اس کے بعد ا رنگ کر دیکھا تو وہ پلٹ ڈاون کے دانت کے بالکل مشابہ تھا۔ اس کے بعد وہ دونوں برٹش میوزیم گئے تاکہ پلٹ ڈاون کے جبڑے سے حاصل کر کے اس کے متعلق اپنے قیاس کی تحقیق کریں۔ لوہے کا ایک مقفل بکس جو خاص طور پر فائر پروف بنایا گیا تھا، اس کے دروازے کھولے اور اس کے اندر سے پلٹ ڈاون کے ڈھانچے کے مقدس ٹکڑے نکالے گئے تاکہ سائنسی طریقوں کے مطابق ان کا گہرا تجزیہ کیا جائے۔ اکسرے مشین اور دوسرے جدید قسم کے آلات حرکت میں آگئے۔ ایک مخصوص قسم کا کیمیادی طریقہ بھی استعمال کیا گیا جو نائٹروجن کی کمی کو معلوم کر کے یہ بتاتا ہے کہ اس پر کتنا وقت گزر چکا ہے۔ وینر کا قیاس صحیح تھا۔ ان مشاہدات سے معلوم ہوا کہ پلیٹ ڈاون میں کے جبڑے کی ہڈی کوئی پرانی ہڈی نہیں تھی بلکہ عام قسم کے ایک بندے سے حاصل کی گئی تھی۔ ہڈی کا قدرتی رنگ چونکہ متحجر ہونے کے بعد بدل جاتا ہے، اس لئے فریب دہندہ نے نہایت ہوشیاری سے اس کو مہوگنی رنگ میں رنگ دیا تھا۔ رنگ کو عین مطابق بنانے کے لئے چند مخصوص اجزاء استعمال کئے گئے تھے۔ گہرے سے مطالعہ کے بعد معلوم ہوا کہ دانت کی سطح پر ایسے خراش موجود ہیں جو بلا اشتباہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ دانت مصنوعی طور پر رگڑا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے کناروں میں غیر فطری قسم کی تیزی بھی تھی جو کہ صرف ریتی سے رگڑنے ہی کی صورت میں ہو سکتی ہے۔

۱۹۵۳ء میں مندرجہ بالا تینوں محققین (آکله ، وینر ، کلارک) نے اعلان کیا کہ جبڑا اور دانت بالکل فرضی ہیں۔ اس کے بعد وینر نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اتنا بڑا فریب جو گھڑا گیا اس کا مصنف کون تھا۔ اس نے تمام ممکن تفصیلات جمع کرنا شروع کیں، ملک بھر کے سفر کئے تاکہ پلیٹ ڈاون کے واقعہ سے تعلق جو افراد ہیں ان سے گفتگو کرے، جو لوگ مرچکے تھے وہ ان کے عزیزوں اور دوستوں سے ملا۔ اخبار کے قدیم فائلوں سے اس سلسلے کی تمام رپورٹیں پڑھ ڈالیں۔

اس گہرے مطالعہ کے بعد پلیٹ ڈاون کے واقعہ سے تمام افراد بالکل بری نظر آئے۔ مگر ایک شخص (چارلس ڈاسن) اس سے مستثنیٰ تھا۔ جو اس واقعہ کا ہیرو تھا۔ تمام معلومات اشارہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues

Printed page