Al-Risala · June 1985 · page 12

ارتقاء کا فریب

الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۱۲

کر رہی تھیں کہ اس بے بنیاد بات کا اصل مصنف ڈاسن ہی ہے۔

چارلس ڈاسن ایک کامیاب قانون داں تھا۔ وہ انگلینڈ کے اس مخصوص خطے کا باشندہ تھا جہاں متحجرات (Fossils) کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ڈاسن کو متحجرات سے بہت دل چسپی پیدا ہوگئی اس کا یہی مشغلہ بن گیا کہ وہ متجر ہڈیاں جمع کیا کرتا تھا۔ پلٹ ڈاؤن میں کے واقعہ سے پہلے وہ دور قدیم کے متعدد جانوروں کے ڈھانچے حاصل کرکے لندن کے عجائب خانے میں بھیج چکا تھا۔ بعد کو ڈاسن کو وہ مذاق سوجھا جس نے ۰۰ سال سے زیادہ مدت تک اہل علم کو فریب میں مبتلا رکھا۔ ڈاسن کے ایک ملاقاتی نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ آواز دے بغیر ڈاسن کے کمرے میں چلا گیا۔ اس نے دیکھا کہ ڈاسن کچھ تجربات میں مشغول ہے۔ وہ مختلف برتنوں میں کھاری اجزاء اور رنگین عرق ڈال کر ہڈیوں کو اس میں ڈبوئے ہوئے تھا۔ ڈاسن نے اس کو دیکھ کر گھبرا کے ہوئے اند از میں وضاحت کی کہ وہ متجر ہڈیوں کو رنگ رہا تھا۔ تاکہ یہ معلوم کرے کہ قدرتی طور پر ان کا جو رنگ ہے وہ کیسے بنتا ہے۔ اس قسم کے اور واقعات معلوم ہوئے جنھوں نے اس خیال کی تصدیق کر دی کہ اس گھڑے ہوئے فریب کا مصنف ڈاسن ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب کہ اس سے بہت پہلے ڈاسن ۱۹۱۶ء میں ۵۲ برس کی عمر میں عین شہرت کے وقت مر چکا تھا۔

ڈاسن نے اپنے جھوٹ کو پکی کرنے کے لئے ایک اور تدبیر کی ۔ اس نے پتھر کے کچھ اوزار پیش کئے اور بتایا کہ یہ اسے پلٹ ڈاؤن کے مقام پر ملے ہیں۔ چنانچہ یہ تسلیم کر لیا گیا کہ یہ پتھر کے وہ اوزار ہیں جن سے پانچ لاکھ سال پہلے کا ناقص انسان کام لیا کرتا تھا۔ مگر بعد کی تحقیقات نے ان کو بھی بالکل جعل ثابت کر دیا۔ ڈاسن نے اسی قسم کا ایک پتھر کا اوزار ہیری موریز(Harry (Harry Moris) کو دیا تھا۔ موریز ایک بنک کلرک تھا اور پتھر کے پرانے نمونے جمع کرنے کا شائق تھا۔ بعد کو موریز اپنی تحقیق سے اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ پتھر کا اوزار بالکل جعلی ہے۔ موریز نے اس پتھر کو اپنی مخصوص الماری میں دوسرے نمونوں کے ساتھ رکھ چھوڑا تھا۔ جب وینر کو اس کی اطلاع ملی تو اس کا شوق بڑھا مگر اس سے بہت پہلے موریز کا انتقال ہو چکا تھا۔

وہ پتھر کہاں ہے؟ وینر کو یہ سوال پریشان کرنے لگا۔ موریز کے مرنے کے بعد اس کی الماری دو ہاتھوں میں منتقل ہو چکی تھی تاہم وینر نے اسے ڈھونڈ نکالا۔ الماری کھولنے پر معلوم ہوا کہ اس کے اندر بارہ خانے ہیں جن میں بہت سے نمونے لیبل لگے ہوئے رکھے ہیں۔ آخری خانے میں پلٹ ڈائون کا پتھر کا اوزار تھا اس پر موریز کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے یہ الفاظ درج تھے:۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues

Printed page