Al-Risala · June 1985 · page 33

ایک تقریر

الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۳۳

اسلام کا معاملہ کوئی نسلی معاملہ نہیں اور نہ وہ چھوتتّر کا معاملہ ہے۔ اسی طرح اسلام کا معاملہ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور تقریروں اور تحریروں کا سیلاب بہانے کا نام بھی نہیں ہے۔ اسلام کا معاملہ یہ ہے کہ آدمی اپنے وجود کو بیج کی صورت میں اس دنیا میں دفن کرنے کے لئے تیار ہو۔ زمین میں دفن ہونے والا بیج ہی اگ کر درخت بنتا ہے۔ اسی طرح دفن ہونے والی روح ہی دوبارہ زندگی پا کر سر سبز و شاداب بنتی ہے۔

اسلام اپنے آپ کی اور خدا کی دریافت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ دریافت کیسی عجیب اور کیسی لذیذ چیز ہے۔ ایک دریافت کو پاکر ارشمیدس ننگا حوض سے نکل کر بھاگا۔ اور ایک دریافت کو پا کر اصمعی بھوکا خیمہ سے نکل کر صحرا کی طرف دوڑ پڑا۔ اسلام اس بات کی دریافت ہے کہ میں کیا ہوں اور خدا کیا ہے۔ میں عاجز مطلق ہوں اور خدا قادرمطلق۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی دریافت کا نام اسلام ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں سارا اختیار خدا کی طرف ہے اور ساری بے اختیاری ہماری طرف۔ مگر اس حقیقت واقعہ پر انسانی اختیار کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ ہماری زندگی کے واقعات بظاہر ہمارے کئے سے ہو رہے ہیں مگر وہ حقیقۃً خدا کے کرنے سے ہو رہے ہیں۔ اسی پردہ کو پھاڑنے کا نام ایمان ہے۔ جس کو اس قسم کا ایمان حاصل ہوتا ہے وہ اس کے بعد بالکل دوسرا انسان بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues

Printed page