ایک تقریر
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۳۲
ایسے بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے انگریزی اور فرانسیسی فوجوں کو دیکھا کہ وہ مسلم دنیا کو روندہی ہیں توان کا خون کھول اٹھا اور وہ ان سے اور ان کے حامیوں سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ مگر عین ایسے انسانوں کی تلاش ہے جو شیطان کی فوج کو دیکھ کر تڑپیں اور لوگوں کو جہنم میں جاتا ہو ا دیکھ کر بے قرار ہوں۔ ایسے افراد سے زمین بھری ہوئی ہے جو مسلم قوم کے خلاف غیر قوموں کی کارروائیوں کو دیکھ کر بھڑک اٹھے ہوں۔ مگر ہم ان انسانوں کو ڈھونڈنے نکلے ہیں جو ہواؤں کو دیکھ کر تڑپیں۔ جن کو درختوں کا منظر بے قرار کر دیتا ہو ۔ جو زمین و آسمان کو دیکھ کر مبہوت ہو گئے ہوں۔ لوگ انسانی واقعات میں گم ہیں۔ ہم ان انسانوں کو تلاش کر رہے ہیں جو خدائی واقعات میں گم ہو سکیں۔ لوگوں کو دنیا کی محرومی کا احساس متحرک کئے ہوئے ہے۔ ہم کو وہ انسان درکار ہیں جن کو آخرت کی محرومی کے احساس نے دیوانہ بنا رکھا ہو۔
الرسالہ کی پکار من انصاری الی اللہ کی پکار ہے۔ مگر یاد رکھئے کہ یہ ایک قربانی کا راستہ ہے یہاں پانا نہیں کھونا ہے۔ یہ دنیا کو برباد کر کے آخرت کی تعمیر کرنا ہے۔ یہ اپنے بیج کو فنا کرنا ہے تاکہ اس کے اندر سے خدا کا شاداب درخت نکلے۔ یہ اپنے کومٹی میں ملانا ہے تاکہ اس کے اندر سے خدا کا باغ اگے۔ یہ دنیا ایسی دنیا ہے جہاں ٹوٹے ہوئے دلوں کی آواز ہی خدا کے گیت میں ڈھلتی ہے۔ جنت ان لوگوں کا انتظار کررہی ہے جو اس خدائی کام کی طرف بڑھیں۔ جو اپنی بربادی کی قیمت پر خدا کے گھر کی تعمیر کریں۔ میرے دوستو، اس کام کی طرف آگے بڑھو، قبل اس کے کہ خدا کا فرشتہ قیامت کا بگُل بجا دے اور کسی کے لئے نہ کچھ کرنے کا موقع باقی رہے اور نہ انعام خداوندی میں حصہ دار بننے کا۔
میرے دوستو، اللہ کو ایک باغ اگانا ہے ، جنت کا باغ۔ اس کے لئے اللہ تعالی کو کچھ درخت درکار ہیں جو خدائی معیار پر پورے اتریں اور خدائی باغ میں لگائے جاسکیں۔ قرآن میں مومن کی مثال ہرے بھرے تناور درخت سے دی گئی ہے اور اس سلسلے میں فرمایا گیا ہے کہ اصلھا ثابت وفرعها في السماء (ابراهیم) دنیا میں اگنے والا درخت مومن کی زندگی کی مادی تمثیل ہے۔ عام درخت زمین سے نکلتا ہے اور آسمان کی طرف بلند ہو کر پھیلتا ہے۔ اسی طرح مومن جس ربانی درخت کا نام ہے وہ دنیا میں اگتا ہے اور اس کو آسمان میں لگایا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues