رو داد سفر
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۳۵
رو داد سفر
لاہور میں قرآن اکیڈمی زیر صدارت ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی طرف سے ہر سال بڑے پیمانے پر قرآنی سمینار ہوتا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں مجھے اس کا دعوت نامہ ملا مگر بعض وجوہ سے میں سفر نہ کر سکا۔ اس سال پھر دعوت نامہ آیا تو میں نے طے کر لیا کہ اس بار انشاء اللہ اس میں شرکت کروں گا۔ اس کے مطابق مارچ 1985ء کا آخری ہفتہ لاہور میں گزرا۔ پہلا سفر پہلی بار میں 1945ء میں لاہور گیا تھا اس وقت میری عمر تقریباً ۲۰ سال تھی۔ یہ میری زندگی کے اس دور کی بات ہے جب کہ میں "تلاش حق" کے کٹھن مرحلہ سے گزر رہا تھا۔ میں اپنے ماحول میں ایک سیدھے سادے نوجوان کی حیثیت سے جانا جاتا تھا۔ میرے چچا زاد بھائی مولانا اقبال احمد سہیل (1887ء ۔ مجھ کو "مرزا پھویا" کہتے تھے۔ یہ حالات تھے کہ 1943ء میں میرے ساتھ ایک شدید حادثہ گزرا۔ یہ گویا ایک قسم کا انفجار (Explosion) تھا جس نے میری بند شخصیت کو کھول دیا۔
یہ حادثہ بظاہر ایک مادی ناکامی کا واقعہ تھا مگر عملاً وہ میرے لئے روحانی ناکامی کا واقعہ بن گیا۔ اس حادثہ نے میری سوئی ہوئی فطرت کو جگا دیا۔ اچانک میں نے جانا کہ میں نہیں جانتا۔ میں نے اپنے نہ جاننے کو دریافت کیا۔ اس حادثہ نے میری زندگی کو سکون کے دور سے نکال کر اضطراب کے دور میں داخل کر دیا۔
میری کشتی اگر چہ "سمندر" میں ٹوٹی تھی مگر شاید کسی نامعلوم قوت نے میرے اندر پیدا ہونے والے نفسیاتی ہیجان کو استعمال کر کے مجھے تلاش حق کے "جزیرہ" میں ڈال دیا۔ اس زمانہ میں میں نے فانی بدایونی (1879ء ۔ پر ایک مضمون لکھا تھا۔ یہ مضمون لکھنؤ کے رسالہ نگار میں چھپا تھا۔ اس کا عنوان تھا "فانی حقیقت کی تلاش میں سرگرداں"۔ یہ مضمون فانی سے زیادہ خود مضمون نگار کی اپنی تصویر تھا۔ میں نے تلاش حق میں اپنی سرگر دانی کو فانی کے آئینہ میں دیکھ لیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues