رو داد سفر
الرسالہ، جون ۱۹۸۵، صفحہ ۳۶
یہ دور تقریباً پانچ سال تک رہا۔ اس وقت میرے اوپر جو حالات گزرے وہ اتنے شدید تھے کہ کئی بار میں نے چاہا کہ میں خودکشی کرلوں۔ دیوانگی کے عالم میں کبھی کسی دور دراز بستی میں چلا جاتا اور کبھی کسی جنگل، یا پہاڑ کی طرف نکل جاتا۔ ۱۹۴۵ء میں لاہور کا سفر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ اس وقت پاسپورٹ اور ویزاکے مسائل نہیں تھے۔ میں شاہ گنج میں ایک ایکسپریس ٹرین پر سوار ہوگیا۔ اس وقت شاہ گنج سے لاہور کا ریلوے کرایہ غالباً گیارہ روپے تھا۔ ٹرین نے سیدھا لے جاکر لاہور میں اتار دیا۔
لاہور اسٹیشن پر اترنے والے تمام مسافر اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو رہے تھے۔ مگر میں دیوانگی کے عالم میں کھڑا ہوا سوچ رہا تھا کہ کہاں جاؤں۔ کیوں کہ اس وقت لاہور میں کوئی بھی میرا جاننے والا نہ تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب پلیٹ فارم خالی ہو گیا تو ایک خالی انجن دھواں اڑاتا ہوا پٹری سے گزرا۔ میں اس کی طرف بڑھا کہ اپنے آپ کو اس کے نیچے ڈال دوں۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی مخفی طاقت نے میرے قدموں کو پکڑ لیا ہے۔ چاہنے کے باوجود میں آخری اقدام سے باز رہا۔
میں ریلوے اسٹیشن کے باہر آیا۔ میں اسٹیشن کی عقبی سڑک پر کھڑا تھا۔ لوگ اِدھر سے اُدھر آتے جاتے نظر آرہے تھے۔ یہ لوگ کیا کرتے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں“ میرے دل نے سوال کیا۔ اتنے میں ایک کم عمر خوش پوش آدمی ایک طرف سے دوسری طرف جاتا ہوا دکھائی دیا۔ میں بڑھ کر اس کے پاس پہنچا۔ سلام علیک کے بعد میں نے پوچھا :
آپ کیا کام کرتے ہیں۔
میں کسی بنک میں کام کرتا ہوں۔
آدمی نے مختصر جواب دیا اور پھر تیزی سے آگے بڑھ گیا ۔ وہ آدمی کسی بنک میں کلرک تھا۔ مگر اس نے ایسے پر اعتماد لہجہ میں جواب دیا جیسے کہ اس کو کوئی بہت بڑی چیز ملی ہو۔ جو شخص کم پر راضی ہو جائے اس کو کبھی زیادہ نہیں ملتا۔
انگریزی دور میں یہاں کے ایک صاحب خواجہ محمد بخش مزدور کی حیثیت سے آسٹریلیا گئے تھے۔ وہ واپس آتے تو لوگ ان کو محمد بخش آسٹریلیا کہتے تھے۔ ۱۹۲۵ء میں انھوں نے ریلوے اسٹیشن کے
‹ Previous page Next page › Contents of June 1985 All issues