الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۳
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۳
بسم الله الرحمن الرحيم
خدا کو پانا سب سے بڑی حقیقت کو پانا ہے۔ کوئی آدمی جب خدا کو پاتا ہے تو یہ اس کے لئے ایک ایسی زلزلہ خیز دریافت ہوتی ہے جو اس کی پوری زندگی کو ہلا دیتی ہے۔
وہ ایک ناقابل بیان ربانی نور میں نہا اٹھتا ہے۔ وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ نئے رخ پر چلنے لگتی ہے۔ اس کا عمل کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے۔ اس کی تمام کارروائیاں ایک ایسے انسان کی کارروائیاں بن جاتی ہیں جو خدا کے ظہور سے پہلے خدا کو دیکھ لے ۔ جو قیامت کی ترازو کھڑی ہونے سے پہلے اپنے آپ کو قیامت کی ترازو پر کھڑا ہوا محسوس کرنے لگے ۔
مومن اور غیر مومن کا فرق یہ ہے کہ غیر مومن پر جو کچھ قیامت میں گزرنے والا ہے وہ مومن پر اسی دنیا میں گزر جاتا ہے۔ غیر مومن جو کچھ آخرت میں دیکھے گا وہ مومن اسی دنیا میں دیکھ لیتا ہے۔ غیر مومن کل کے دن جو کچھ مجبور ہو کر مانے گا اس کو مومن آج کے دن کسی مجبوری کے بغیر مان لیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues