Al-Risala · July 1985 · page 3

خدا کا بندہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۳

خدا کا بندہ

بجلی کے بلب کا کنکشن ایک پاور ہاؤس سے جُڑنا کوئی عام قسم کا واقعہ نہیں۔ یہ ایک غیر روشن چیز کا ایسی چیز سے جڑنا ہے جو دوسری چیزوں کو روشن کرنے کی غیر معمولی طاقت رکھتی ہے۔ اس کا فوری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک’’مردہ‘‘بلب’’زندہ‘‘بلب بن جاتا ہے۔ ایک تاریک بلب میں روشنی کا فوارہ پھوٹ پڑتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ بندے اور خدا کے تعلق کا بھی ہے۔

خدا ہماری دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس لئے خدا کو پا نا محض سادہ سا واقعہ نہیں ۔ یہ نفسیات انسانی میں پیش آنے والا سب سے بڑا واقعہ ہے ۔ یہ ایک بھونچال ہے جس سے آدمی کا پورا وجود ہل جاتا ہے ۔ یہ ایک سیلاب ہے جس سے آدمی کی پوری شخصیت نہا اٹھتی ہے۔ خدا کو پانے کے بعد کوئی شخص ویسا نہیں رہتا جیسا وہ خدا کو پانے سے پہلے تھا۔ خدا کا مومن وہ ہے جو اس کے بعد ایک نیا انسان بن جائے۔

خدا کو پانا جس کو شریعت کی اصطلاح میں ایمان کہا جاتا ہے ،کسی انسان کے لئے اس کی زندگی کا سب سے بڑا تجربہ ہے۔ خدا پر ایمان یہ ہے کہ ایمان آدمی کو اس طرح ملے کہ وہی اس کی زندگی بن جائے۔ وہ ایسی روشنی ہو جس سے اس کا پورا وجود چمک اٹھے۔ وہ ایسا رنگ ہو جس میں اس کے سارے معاملات رنگے ہوئے نظر آئیں۔ ایمان خدا کی موجودگی کو پالینے کا دوسرا نام ہے۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی خدا کی عظمتوں میں گم ہو جائے ۔ وہ احساس خداوندی میں سرشار ہو جائے۔ ایمان آدمی کے جذبات کا حمد خداوندی میں ڈھل جانا ہے۔ یہ دنیا میں رہتے ہوئے خدا تک پہنچ جانا ہے۔

ایمان ایک زلزلہ ہے جو خدا کی معرفت سے آدمی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ ایمان ایک سیلاب ہے جو خدا کے فیضان کو پا کر آدمی کے سینہ میں بہہ پڑتا ہے۔ ایمان خدا کو پالینا ہے اور خدا کو پانا سب کچھ کو پالینا ہے۔ پھر کیا چیز ہے جو خدا کو پانے کے بعد آدمی کو نہ ملے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page