Al-Risala · July 1985 · page 18

امت کا زوال

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۸

دور زوال میں دین اپنی شکل کے اعتبار سے ختم نہیں ہوتا۔ البتہ وہ اپنی روح کے اعتبار سے ختم ہو جاتا ہے۔ خدا کی بڑائی کے چرچے کرنا لوگ نہیں جانتے البتہ خدا کے نام پر دوسری چیزوں کے چرچے سے وہ خوب واقف ہوتے ہیں۔

فضائل اعمال اور مسائل اعمال کا زور ، تاریخ اسلام اور حکومت اسلام کے چرچے ، اکابر امت اور ۔ بزرگان دین کے تذکرے ، جشن میلاد اور ایصال ثواب کے ہنگامے ، سب اسی کی مثالیں ہیں۔ جب دین کاخدائی پہلو حذف ہو جاتا ہے تو ہر شخص اپنے ذوق کے مطابق اس کا کوئی ظاہری پہلو لے لیتا ہے اور اسی کے اوپر اپنے زبان و قلم کی ساری قوت صرف کرنے لگتا ہے۔

جب کسی امت کا یہ حال ہو جائے تو یہ اس کی علامت ہے کہ وہ سوار السبیل سے ہٹ گئی۔ اس نے دین کا بڑا حصہ کھو دیا۔ وہ خدا کی رحمت سے بہت دور چلی گئی۔

حضرت حسن بصری تابعی نے تقریباً ستر صحابہ کو دیکھا تھا۔ انھوں نے ایک بار اپنے زمانہ کے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ جتنا زیادہ نفل نمازیں پڑھتے ہو اور جتنا زیادہ نفل روزے رکھتے ہو، اصحاب رسول اتنا زیادہ نہیں کرتے تھے۔ اس کے باوجود وہ تم لوگوں سے افضل تھے۔ پوچھا گیا کہ کیوں وہ افضل تھے۔ حضرت حسن بصری نے جواب دیا؛

ان کے سینوں میں اللہ کا خوف پہاڑ سے بھی زیادہ بڑا تھا۔

لوگ انسانی عظمتوں میں گم ہیں، صحابہ کرام خدائے ذوالجلال کی عظمتوں میں گم تھے۔ لوگ عوام کی مرضی پر نظر رکھتے ہیں، صحابہ کرام خدا کی مرضی کو دیکھتے تھے۔ لوگوں کو قیادت کے اسٹیج پر نمایاں ہو کر تسکین ملتی ہے۔ صحابہ کرام تواضع کے خلوت کدوں میں تسکین پاتے تھے۔

لوگ بولنا جانتے ہیں، صحابہ کرام چپ رہنا جانتے تھے۔ لوگ ہنگاموں میں جیتے ہیں، صحابہ کرام تنہائیوں میں جیتے تھے۔ لوگوں نے دنیا کے مسئلہ کو مسئلہ سمجھ رکھا ہے، صحابہ کرام نے آخرت کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ بنایا تھا۔ لوگ وقتی کامیابیوں کی طرف دوڑتے ہیں ، صحابہ کرام وہ لوگ تھے جو ابدی کامیابی کے شوق میں وقتی کامیابی کو اس طرح بھلا چکے تھے جیسے اس کا وجود ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page