سازش کاراز
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۱۹
سازش کاراز
سعودی حکمراں شاہ فیصل ۲۵ مارچ ۱۹۷۵ء کوقتل کر دئے گئے ۔ قاتل ان کا بھتیجا شہزادہ فیصل بن مساعد تھا۔ مٹرایلن ہارٹ نے اپنی انگریزی تصنیف " یاسر عرفات ، دہشت پسند یا امن کے نقیب “ میں لکھا ہے کہ قتل کا منصوبہ اسرائیلی ایجنٹوں نے تیار کیا تھا۔ فیصل بن مساعد کی حیثیت محض آلہ کار کی تھی۔ مصنف نے تنظیم آزادی فلسطین کی امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین مسٹر خالد حسن کے حوالے سے لکھا ہے کہ فیصل بن مساعد کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ اس کے والد کی موت کے ذمہ دار شاہ فیصل ہیں۔ نیز یہ کہ شاہی خاندان اس کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہا ہے۔ اس کے سینے میں انتقام اور محرومی کا احساس دبا ہوا تھا۔ اسرائیلی ایجنٹوں نے اس کے اسی احساس کو استعمال کیا۔
فیصل بن مساعد تعلیم کے لئے امریکہ میں مقیم تھا۔ اس زمانہ میں باقاعدہ منصوبہ کے تحت ایک یہودی لڑکی نے اس سے دوستی کی اور اس کو نشہ آور چیزوں کا عادی بنا دیا۔ یہ لڑکی جو اسرائیلی خفیہ ایجنسی کی ایک رکن تھی ، فیصل بن مساعد کے اوپر بری طرح چھاگئی ۔ جب یہودی عورت نے محسوس کیا کہ وہ اپنی آنکھ سے دیکھنے اور اپنے ذہن سے سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے تو اس نے شہزادہ کا ہمدرد بن کر اس کے اندر یہ جذبہ ابھارا کہ وہ شاہ فیصل کے ظلم اور نا انصافی کا بدلہ لینے کے لئے انہیں قتل کر دے۔ مسٹر خالد حسن کے خیال کے مطابق یہود نے شاہ فیصل کو اس لئے قتل کرایا کیوں کہ انہیں خطرہ تھا کہ وہ عرب اتحاد پیدا کر کے ان کے لئے خطرہ بن جائیں گے اور امریکہ کو مجبور کریں گے کہ وہ اسرائیل کو ۱۹۶۷ء کی سرحدوں پر دوبارہ واپس لے جائے ۔
یہ ایک مثال ہے جس اندازہ ہوتا ہے کہ ان واقعات کی حقیقت کیا ہے جن کو ہم " دشمنانِ اسلام کی سازش " کا نام دیا کرتے ہیں۔ یہ سازشیں خود مسلمانوں کے اپنے کمزور پہلوؤں کا استعمال ہیں نہ کہ محض یک طرفہ سازش ۔
اسلام کے دشمن اسلام کے خلاف اپنی سازشوں میں صرف اس وقت کامیاب ہوتے ہیں جب کہ وہ مسلمانوں کے اندر اپنے لئے کوئی موافق عنصر کو پالیں۔ اس اپنے اندر کے عنصر کو درست کر دیجئے اور پھر کسی دشمن کی کوئی سازش آپ کے خلاف کامیاب نہیں ہوگی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues