Al-Risala · July 1985 · page 30

اسلامی دعوت

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۵، صفحہ ۳۰

اسلامی دعوت

قرآن کی ایک سورہ میں قرآنی دعوت کا خلاصہ ان لفظوں میں آیا ہے:

أم لم ينبأ بما في صحف موسى وإبراهيم الذى کیا اس کو اس کی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں میں، وفى - ألا تزر وازرة وزر أخرى - وأن ليس ہے اور ابراہیم کے جس نے پوری تعمیل کی۔ یہ کہ کوئی للانسان إلا ما سعى - وان سعيه سوف يرى بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ثم يجزاه الجزاء الاوفى - وان الى ربك اور یہ کہ انسان کو وہی ملے گا جو اس نے کمایا۔ اور یہ کہ المنتہیٰ (النجم ۲۲ - ۳۶) انسان کی سعی جلد دیکھی جائے گی۔ پھر اس کو اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اور یہ کہ تیرے رب کے پاس ہی پہنچنا ہے۔

ان آیات میں جو اندازِ دعوت ملتا ہے اس کا نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریروں میں بھی موجود ہے۔ مثلاً آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو آپ نے اپنی پہلی تقریر میں فرمایا: فمن استطاع ان يقى وجهه من النار ولو بشق من جو شخص اپنے چہرہ کو آگ سے بچا سکے وہ بچائے، خواہ تمرة فليفعل ومن لم يجد فبكلمة طيبة وہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہو۔ اور جو شخص یہ بھی (سیرۃ ابن ہشام، جزء ثانی ۱۱۸) نہ پائے تو ایک پاک بول کے ذریعہ۔

صحابہ کرام کی تبلیغ کا انداز بھی یہی تھا۔ مثال کے طور پر عمرو بن میمون آودی کہتے ہیں: قام فينا معاذ بن جبل فقال : يا بني أود، انى رسول معاذ بن جبل رضی اللہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور تقریر رسول الله صلى الله عليه وسلم اليكم تعلمون کرتے ہوئے کہا کہ اے بنی أود، میں تمہاری طرف خدا ان المعاد الى الله الى الجنة او الى النار کے رسول کا بھیجا ہوا قاصد ہوں۔ جان لو کہ خدا ہی (مختصر تفسير ابن کثیر، جلد ثالث ، صفحه ۴۰۴) کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ لوٹنا یا جنت کی طرف ہوگا یا آگ کی طرف۔

اسلامی دعوت دراصل خدا اور آخرت کی یاد دہانی ہے۔ انسان کو خدا سے جوڑنا اور آخرت کی پکڑ کا زندہ احساس پیدا کرنا ہی وہ اصل کام ہے جس پر اسلامی دعوت مرتکز رہتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1985 All issues

Printed page